Dresses

آج کل خواتین میں لباس کے سلسلہ میں بہت کوتاہی کی جاتی ہے لباس کو فیشن کے مطابق بنانے کی ازحد کوشش کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ جسم کا کونسا حصہ کھل رہا ہے اور کونسا ڈھکا ہوا ہے ایسی خواتین کے بارے میں حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا

رب کاسیات عاریات یوم القیامیۃ یعنی بہت سی عورتیں لباس پہننے کے باوجود قیامت کے دن ننگی ہونگی۔

ایک اور حدیث جس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ اس میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخی عورتیں جن کو میں نے دیکھا نہیں میرے زمانہ کے بعد پیدا ہوں گی کہ کپڑے پہنے ہوں گی اور ننگی ہوں گی۔

مذکورہ دونوں حدیثوں سے ان عورتوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو فیشن کی دلدادہ ہیں اور لباس بنانے میں بدن کو چھپانے کا اہتمام نہیں کرتیں آج کل خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ لباس اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کو دکھلانے کے لئے ہیں چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ عورتیں گھروں میں تو میلی کچیلی رہیں گی اور جب کبھی گھر سے باہر کسی تقریب وغیرہ میں جانا ہو تو پھر اس کا اہتمام کریں گی کہ لباس مروجہ فیشن کے مطابق ہو درحقیقت اس کے پیچھے نمائش کا جذبہ ہے اور یہ نمائش شریعت میں ناجائز ہے۔

اس لئے خواتین کو چاہئے کہ لباس بنانے میں اس بات کا اہتمام کریں کہ اس سے ستر عورت ہو جو کہ لباس کا بنیادی مقصد ہے۔
فیشن پرستی اور نمائش سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

نت نئی بیماریوں کا علاج

آج ہمارے معاشرے میں جو آئے دن نت نئی بیماریوں کا ظہور ہوتا ہے منجملہ دوسری وجوہات کے اس کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔
کیونکہ حدیث شریف کے مطابق فحاشی و بے حیائی سے نئے نئے امراض پیدا ہونگے۔
یہ فحاشی و بے حیائی اسی بے پردگی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم بے پردگی سے توبہ کرلیں تو بہت سے امراض سے نجات مل جائے گی۔

زیب و زینت کی حد

ایک دفعہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک عورت قبیلہ مزینہ کی زیب وزینت کے لباس میں یعنی بناؤ سنگار کے ساتھ مٹکی ہوئی مسجد میں آئی۔ تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو اپنی عورتوں کو زیب وزینت کے لباس پہن کر مسجد وغیرہ میں مٹکنے سے روکو۔ کیوں کہ بنی اسرائیل پر اس وقت تک لعنت نہیں کی گئی جب تک ان کی عورتوں نے زیب وزینت کا لباس پہنن کر مٹکنا اختیار نہیں کیا۔  رواہ ابن ماجہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *