بچوں میں گھبراہٹ یا اینگزائیٹی: اس پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟

ڈر اور خوف کو سمجھنے اور اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ابتداء ہی سے اس پر توجہ دی جائے۔ کیونکہ زیادہ تر خدشات اور خوف کی ابتدا بچپن ہی سے ہوتی ہے۔ اگر بچپن میں کسی چیز کا ڈر یا خوف دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ برسوں تک ذہن میں موجود رہتا ہے۔ اور جلد یا بدیر کسی بحران یا خطرے کے وقت یہ خوف جو برسوں سے ذہن کے پردے میں چھپا ہوتا ہے، ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور پھر اس سے انسان کا ذہن اور سوچ متاثر ہوتی ہے۔

تاہم اگر ذہن کی بنیاد مضبوط ہو، بچے میں شروع ہی سے خود اعتمادی، ہمت اور جرآت، محبت اور خلوص اور دوراندیشی کا جذبہ بھرا جاۓ، تو اس کی ذہنی اور جسمانی نشونما مضبوط اور توانا ہوگی۔ اور وہ ہر قسم کے حالات و واقعات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا۔ لیکن اگر ذہن کی نشوونما صرف ریت پر ہو، بنیاد کمزور ہو، خود اعتمادی کا فقدان ہو، اور ذہن میں کوئی فیصلہ کرنے یا قدم اٹھانے کی ہمت نہ ہو تو زندگی جب بھی کسی طوفان سے ہمکنار ہوگی ذہن کی یہ کچی عمارت ڈھیر ہو جائے گی۔

بچے کو اچھے اور برے کی تمیز ابتدائی چند برسوں میں اپنے ارد گرد کے حالات اور واقعات سے ہوتی ہے اور اس پر بچے کی آئندہ زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ اس بات کی کوئی واضح شہادت نہیں ہے کہ والدین کی نفسیاتی خوف اولاد کو بھی لاحق ہو جبکہ اس بات کے حق میں کئی شہادتیں موجود ہیں کہ ہماری لا شعوری حرکات ترغیبی جملے نقالی کا جذبہ اور دیگر اثرات بچوں میں خوف کا سبب بن سکتے ہیں۔ غلط تربیت اور کوئی تکلیف دہ تجربہ بھی خوف کا موجب ہو سکتا ہے۔

چند تجاویز

ایسے بے بنیاد خوف کو کم کرنے اور اس سے نمٹنے کے لئے ذیل میں کچھ تجاویز تحریر ہیں جو اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

بچے کو کبھی ڈرا دھمکا کر پڑھانے یا سکھانے کی کوشش مت کریں۔ ہزاروں بچے ذہنی طور پر مخص اس لیے ناکارہ ہو جاتے ہیں کہ انہیں مار پیٹ کر یا ڈرا دھمکا کر تعلیم دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہیں شرارتوں سے باز رکھنے کے لیے کسی مافوق الفطرت یا خوفناک چیز کا روپ مت دھاریں۔

اگر بچے نے کوئی غلط عادتیں اپنا لی ہیں، تو انہیں گناہ یا کسی بہت بڑی غلطی کا درجہ مت دیں بلکہ اسے یوں سمجھیں کہ جب کوئی شخص کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے تو کبھی کبھی ضرور غلطی کرتا ہے۔

اگر بچہ کوئی غلطی کرتا بھی ہے تو اس سے محبت، ہمدردی اور تحمل مزاجی سے پیش آئیں۔ اس سے بچے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور اسے دور کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور اسے جسمانی اور ذہنی طور پر تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

بچوں کے سامنے اپنے کسی نفسیاتی خوف کا مظاہرہ نہ کریں۔ بچے ایسے مظاہروں سے سے لاشعوری طور پر اثرات قبول کرتے ہیں۔

گھریلو زندگی میں باہمی الفت و اعتماد کی فضا برقرار رکھیں۔ پیچیدہ مسائل کے حل کے سلسلے میں اضطراب کا مظاہرہ کرنے کی بجائے دانشمندانہ طرز عمل اپنایئں۔

بے ضرر اور فالتو جانورں سے بچوں کو ہر گز نہ ڈرائیں۔

بچے کے کسی خوف کا مذاق نہ اڑائیں۔ یہ خیالی خوف بچے کے لیے اتنا ہی حقیقی ہے جیسے کسی بالغ شخص کے لیے بندوق تانے ہوئے کوئی ڈاکو۔

چنانچہ بچے کا مذاق اڑانے کی بجائے اس کے خوف کو عقلی بنیاد پر دور کرنے کی کوشش کریں، ورنہ دوسری صورت میں بچے میں اپنے بے بنیاد خوف کی سلسلے میں لا چاری اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا۔

بچے کو اپنے بے بنیاد خوف دور کرنے کے لیے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے آپ اپنی عقل و دانش اور تعلیم و تجربے کی روشنی میں بچے میں ہمت و حوصلہ پیدا کریں تاکہ وہ اس جرات سے بہرہ ور ہو سکے جو کسی مخصوص شے سے خوف کو اس کے حقیقی پس منظر میں دیکھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے۔

اگر بچہ اندھیرے سے اور خاص طور پر سوتے وقت روشنی بند کر دینے سے ڈرتا ہے تو اس کے لئے کم روشنی کے بلب کا انتظام کریں اور اس میں یہ احساس پیدا کریں کہ آپ اس کی حفاظت کے لئے چوکس ہیں اور جب وہ شعور کی منزلوں میں قدم رکھے تو اسے اندھیرے کی نوعیت اور ضرورت کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر کسی بچے کو زبردستی اندھیرے کمرے میں سونے پر مجبور کیا جائے اور اس کے احتجاج پر کان نہ دھرا جائے تو بچےکے ذہن میں خوف جم کے بیٹھ جائے گا جو بہت سی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ بچے میں وہ سمجھ بوجھ پیدا کریں کہ وہ اپنے خوف کو اپنی بنیادوں پر خود ہی پرکھ سکے۔

غصے پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *