Sultan Murad

مراد اول، دوسرے عثمانی حکمراں، آور خان کے فرزند ہیں۔ 726 ہجری 1325 عیسوی میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کی وفات کے بعد 760 ہجری 1359 عیسوی میں 34 برس کی عمر میں برسر اقتدار آئے۔ انہوں نے تقریباً تیس برس حکومت کی۔ آور خان نے اپنے بیٹوں سلیمان پاشا اور مراد اول کی تربیت پر خصوصی توجہ دی تھی۔ مراد اول نوجوانی ہی میں جنگی فنون اور کشتی میں اعلی درجے کی مہارت حاصل کر چکے تھے۔ قدیم ترکی مؤرخ مراد اول کو مراد غازی لکھتے ہیں، لیکن بعد میں ان کے لئے خداوند گار کا لقب بھی استعمال کیا جانے لگا جس کے معنی ہیں مالک یا حاکم۔ قدیم ترین مورخین اس لفظ کی جگہ “خنکیار” کا لفظ استعمال کرتے تھے.
مراد اول بہت سنجیدہ اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہر معاملے میں نظم و ضبط اور قرینہ پسند کرتے تھے، خصوصاً فوج کے معاملے میں ان کی واضح ہدایت تھی کہ ہر سپاہی اور ہر افسر، مکمل فوجی تربیت حاصل کرے اور احکامات کی فوری طور پر تعمیل ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ ذرا سی لاپروائی بھی برداشت نہ کرتے تھے اور کسی بھی حکم کی خلاف ورزی پر سخت سرزنش کرتے تھے، تاہم اپنی طبیعت کے لحاظ سے وہ بے حد مہربان اور شفیق تھے۔ کسی سے وعدہ کرتے تھے تو اسے پورا کرتے تھے۔ اپنی بات صاف گوئی سے بیان کرتے اور دلیل کی زبان میں گفتگو کر کے اپنے مخاطب کو قائل کر لیتے تھے۔ جب کسی سے علطی ہو جاتی تھی تو اس کے خلاف اقدام کرتے تھے، لیکن اگر وہ اپنی غلطی تسلیم کر لیتا تھا اور معافی طلب کرتا تو فراخ دلی سے اسے معاف کر دیتے تھے۔ مراد اول بہت مضبوط اعصاب کے حامل تھے اور نہایت خطرناک اور سنسنی خیز لمحات میں بھی اپنے اوسان قائم رکھتے تھے۔ جنگی معرکوں میں وہ اپنے تجربہ کار افسروں کو بھی مشورے میں شریک کیا کرتے اور ان کے اچھے مشوروں کو قبول کر لیتے تھے۔
جب اور خان نے شہر برسہ (بروصہ) فتح کیا تو انہوں نے مراد اول کو برسہ اور اس کے اطراف کے علاقے کا نگراں بنادیا۔ برسه اسی لیے اپنے پہلے عثمانی حاکم کے نام پر “خداوند کار“ کہلانے لگا۔

فتوحات تھریس

مراد اول نے حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے ایشیائے کوچک (موجودہ ایشیائی ترکی) میں بازنطینی (رومی) حکومت کے ان چند علاقوں کی طرف توجہ دی جن پر بازنطینیوں کا قبضہ باقی رہ گیا تھا۔ مراد اول نے کارروائی کر کے بحیرۂ اسود کے ساحل پر ارگلی اور بحیرۂ مرمرہ کے بعض ساحلی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے رومیلی کی طرف پیش قدی کا آغاز کیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں آج کل یورپی ترکی واقع ہے۔ سب سے پہلے 1362 ہجری 1361 عیسوی میں چورلو (چورلی) فتح ہوا۔ ہول پھر دیموتوقہ  (دیکوتکہ) کو تسخیر کیا گیا۔ اسی سال ایک بہت اہم شہر ادرنہ (ایڈریانوپل) کو فتح کر کے عثمانی مملکت میں شامل کیا گیا۔ یہ شہر 769 ہجری 1368 عیسوی  میں عثمانی قلمرو کا دارالحکومت بنا اور 857 ہجری 1456 عیسوی  میں قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) کی فتح تک  یہی شہر عثمانیوں کا دارالحکومت رہا۔
اب تقریباً سارا تھریس عثمانیوں کے قبضہ میں آچکا تھا۔ 764 ہجری 1363 عیسوی میں مراد اول کی فوج بلغاریہ میں داخل ہو کر فلیوپولس (فلی) کو بھی فتح کر چکی تھی۔ عثمانیوں کی ان فتوحات کے باعث قسطنطنیہ کے شہنشاہ کو مجبور ہو کر مراد اول کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانا پڑا اور انہوں نے عثمانیوں کی بالادستی قبول کرتے ہوئے معاہدہ کرلیا کہ تھریس کے جو علاقے ان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں انہیں دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور آئندہ حملوں میں سربیا اور بلغاریہ کی مدد نہیں کریں گے۔

جنگ ماٹیر

عثمانیوں کی ان فتوحات سے سربیا، بوسنیا اور ہنگری والے بہت گھبرائے اور انہوں نے آپس میں اتحاد قائم کرلیا۔ سربیا کی ریاست اس زمانے میں بڑی طاقتور تھی۔ اس میں موجودہ یوگو سلاویہ کا ایک حصہ، یونان کا ایک حصہ اور البانیہ کا ایک حصہ شامل تھا۔ بوسنیا اب ایک آزاد ریاست ہے۔ پوپ اربن پنجم نے ہنگری، سربیا، بوسنیا اور ولاچیا (اب رومانیہ کا حصہ ہے) کے حکمرانوں کو جوش دلایا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں
کی بڑھتی ہوئی سپاہ کی راہ روکیں، چنانچہ ان چاروں ریاستوں نے 764 ہجری 1363 عیسوی میں ایک بڑی فوج تھریس کی سمت روانہ کردی اور اعلان کر دیا کہ عثمانیوں کو یورپ سے نکال باہر کیا جائے گا۔
مراد اول اس زمانے میں اناطولیہ (ایشیائی ترکی) میں تھے۔ دشمن کی فوجوں کی آمد کی اطلاع ملتے ہی وہ تھریس روانہ ہو گئے، لیکن ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ان کے قابل اور بہادر سالار لالہ شاہین ایک فوج لے کر دریائے مرتزہ (مارٹیزا) کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ان کی فوج مسیحی لشکر کے مقابلے میں نصف تھی، لیکن انہوں نے نہایت جرأت سے کام لیتے ہوئے دشمن کے لشکر پر شب خون مارا۔ مخالف فوج کے سپاہی اس اچانک حملے کی تاب نہ لا سکے اور میدان عثمانیوں کے ہاتھ رہا۔

شہنشاہ کی ناکامی

اس جنگ کے نتیجے میں کوہ بلقان کے جنوب کا تمام علاقہ عثمانی مملکت کا جزو بن چکا تھا۔ مراد اول فیصلہ کر چکے تھے کہ عثمانی قلمرو میں توسیع اب یورپ کی جانب ہو گی۔ اسی لیے انہوں نے دیمو توقہ کو دارالحکومت بنایا اور اس کے تین سال بعد ادرنہ کو دارالحکومت کی حیثیت دے دی۔ جنگ مرتزہ کے نتیجے میں مراد اول کی حکومت کو ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ شاہ قسطنطیہ نے عثمانیوں کو سالانہ خراج دینے کا وعدہ کر لیا۔ اگلے سال عثمانیوں نے مقدونیہ کے اہم شہروں سرس، درمه اور قولہ پر قبضہ کرلیا۔
کچھ عرصے تک تو قسطنطنیہ کے شہنشاہ قیصر روم مجبورا اخراج ادا کرتے رہے، لیکن پھر ان سے رہا نہ گیا اور وہ 771 ہجری 1369 عیسوی میں پوپ کی خدمت میں جا پہنچے۔ عثمانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے عقائد تک کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے آرتھوڈکس کلیسا کو کیتھولک کلیسا میں ضم کر دیا۔ پوپ نے انہیں چند بادشاہوں کے نام خطوط فراہم کردیے، لیکن قیصر روم، عثمانیوں کے خلاف کوئی متحده طاقت نہ پیدا کر سکے۔ بلکہ خود ان کے پوتے کے باغی ہو جانے سے انہیں سیاسی نقصان پہنچا۔ 773 ہجری 1371 عیسوی میں مراد اول کے سالار لاله شاہین نے بلغاریہ کے مشہور شہر صوفیہ کے قریب سماکوف کے میدان میں بلغاریہ اور سربیا کی فوجوں کا مقابلہ کیا۔ فتح نے مسلمانوں کے قدم چوے۔ دوسری طرف درمہ، سرس اور قولہ پر عثمانیوں کے قبضے کے بعد سربیا کے بادشاہ لازار نے مراد اول کی اطاعت قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ بلغاریہ کے بادشاہ سیسمان نے بھی صلح کی درخواست کی، چنانچہ بلغاریہ کا وہ حصہ جو اب تک عثمانی مملکت میں شامل نہیں کیا گیا تھا، بلغاریہ ہی کے پاس رہنے دیا گیا۔

امن اور و اصلاحات کا زمانہ

778 ہجری 1376 عیسوی سے 783 ہجری 1381 عیسوی تک کا عرصہ نسبتاً پر سکون گزرا۔ اس زمانے میں کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑی گئی۔ مراد اول نے اس دوران مملکت کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی۔ اراضی کو نئے سرے سے تقسیم کیا اور متعد د اصلاحات جاری کیں۔
اس پر امین زمانے میں مراد اول نے اپنے بیٹے بایزید کی شادی ایشیائے کو چک (اناطولیہ) کی ریاست گرمیاں کے امیر کی لڑکی سے کر دی۔ دلہن کو جہیز میں گرمیاں کی ریاست کا بڑا حصہ اور قلعہ کوتاہیہ دیا گیا۔ یہ قلعہ بہت اہم تھا۔ ایشیائے کوچک میں سلجوقی اقدار ختم ہو جانے کے بعد چھوٹی چھوٹی سلجوقی ریاستیں قائم ہو گئی تھیں۔ مراد اول کے تدبر کی بدولت یہ ریاستیں آہستہ آہستہ عثمانی مملکت میں ضم ہو گئیں۔ 779 ہجری 1377 عیسوی میں مراد اول نے ایشیائے کو چک میں واقع ریاست “حمید” کے امیر سے ان کی ریاست کا بڑا حصہ خرید لیا۔ اس میں آق شہر بھی شامل تھا۔ اب عثمانی مملکت کی حدود کرمانیہ تک جا پہنچی تھیں۔ (کرمانیہ کو قرامان کہتے تھے۔ یہ اب صوبہ قونیہ کا ایک حصہ ہے)۔ کرمانیہ اور عثمانیوں کے تعلقات اچھے نہ تھے۔ ان تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی غرض سے مراد اول نے اپنی لڑکی نفیسہ کی شادی کرمانیہ کے حکمراں علا الدین سے کر دی، لیکن علا الدین نے خود سری برقرار رکھی، چنانچہ دونوں فریقوں کے مابین جنگ ہوئی جس میں مراد اول نے قونیہ میں علاالدین کی فوج کو شکست دی، لیکن اپنی عالی ظرفی کے باعث علاالدین کو معاف کر دیا۔ یہی وہ جنگ ہے جس میں مراد اول کے بیٹے بایزید نے بھی حصہ لیا اور ان کی بے انتہا پھرتی کی وجہ سے انہیں “یلدرم” یعنی “بجلی” کا لقب دیا گیا.

مسیحی حکومتوں کا اتحاد اور وفات مراد اول

عثمانیوں کی حکومت اب اس قدر وسیع ہو چکی تھی کہ سربیا اور دیگر مسیحی طاقتیں سخت خلجان میں مبتلا تھیں۔ سربیا، بوسنیا اور بلغاریہ نے ایک بار پھر مسیحیوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ البانیه، ولاچیا، ہنگری اور پولینڈ نے اپنی اپنی فوجیں بھیج دیں۔ مغربی یورپ کو بھی فوج بھیجنے کی دعوت دی گئی، لیکن وہاں کی حکومتیں مختلف وجوہ کی بنا پر اس جانب متوجہ نہ ہوئیں۔ بہر حال سربیا نے مختلف ممالک کو اکسا کر اچھی خاصی بڑی فوج اکٹھی کرلی۔ مراد اول کو برسہ میں، اتحادیوں کی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی۔ گو کہ اس وقت ان کی عمر تقریباً ستر سال ہو چکی تھی، لیکن انہوں نے فوراً جنگ کی تیاریاں کیں اور فوج لے کر روانہ ہوگئے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی بوسنیا میں اتحادیوں نے عثمانی فوج پر حملہ کرکے اسے خاصا جانی نقصان پہنچایا۔ تاہم مراد اول نے اپنے سالار علی پاشا کو دره دربند کے راستے بلغاریہ بھیج دیا، جنہوں نے شوملہ اور ترنودو پر قبضہ کر لیا۔ بلغاریہ کے شہنشاہ سیسمان (ششمن) بھاگ کر نائکو پولس میں پناہ گزین ہو گئے، لیکن ان کو عثمانیوں سے صلح کرنی پڑی اور سلسترہ (سلسٹریا) کا علاقہ دینے کا وعدہ کیا۔
مراد اول نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیسمان کو معاف کر دیا، لیکن بہت جلد سیسمان نے عہد توڑ دیا اور سربیا کے بادشاہ لزر (لازار) سے جا ملا۔ اس نے سلسترہ کو عثمانیوں کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ مراد نے پھر علی پاشا کو فوج دے کر بھیجا۔ نکہ بولی یانکو پولیس میں سیسمان کو شکست ہوئی۔ مراد اول نے ایک بار پھر سیسمان کی بد عہدی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا، لیکن بطور سزا، بلغاریہ کا جنوبی حصہ عثمانی مملکت میں ضم کر دیا۔
عثمانیوں کی زبردست طاقت سے خائف ہو کر سربیا کے بادشاہ لزرنے اپنے حلیفوں کی قوت جمع کر کے عثمانیوں پر فیصلہ کن حملے کا فیصلہ کرلیا۔ اس غرض سے اس نے بلغاریہ، ولاچیا (رومانیہ)، بوسنيا، البانیہ، پولینڈ اور ہنگری کے حکمرانوں کو اپنی اپنی فوج بھیجنے کی ترغیب دی، چنانچہ بہت جلد ایک لاکھ سے زیادہ سپاہیوں پر مشتمل لشکر قوصوبا (قوصودہ اور کوسودا بھی لکھا گیا ہے) کے میدان میں اپنے خیمے نصب کر رہا تھا۔ یہ موجودہ یوگوسلاویہ میں واقع ہے۔ دوسری جانب مراد اول بھی دشمن کی نقل و حرکت سے بے خبر نہ تھے۔ دشمن کی پیش قدی کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے بھی جنگی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور جب 24 جمادی الاول 791 ہجری 20 جون 1389 عیسوی کو مسیحی لشکر قوسوبا کے میدان میں دریائے شنیزہ کی شمالی جانب پڑاو ڈال رہا تھا تو دریا کی جنوبی سمت عثمانی لشکر کے سرخ پرچم لہرارہے تھے۔ دشمن کی فوج عثمانی لشکر سے تعداد میں دگنی تھی۔
صبح کا اجالا دھیرے دھیرے پھیلنے لگا۔ اچانک افق پر کالی گھٹا گھر کر آئی اور بارش شروع ہوگئی۔ بارش سے گرد بیٹھ گئی اور دور تک کا منظر دکھائی دینے لگا کہ دریا کی شمالی جانب بھی اک بڑا لشکر خیمہ زن ہے۔ کچھ دیر میں بارش تھم گئی اور مطلع صاف ہوگیا۔
اب لشکر حرکت میں آگئے اور دونوں جانب صفیں ترتیب دے لی گئیں۔ رزمیہ نعرے بلند ہوئے۔ نعرہ تکبیر کی گونج سنائی دی اور فریقین پوری قوت سے آپس میں ٹکرا گئے۔ تیر برس رہے تھے، تلواریں لہرا رہی تھیں۔ گھوڑوں کے دوڑنے سے حشر بپا تھا، پھر اس شور میں توپوں کی بھی شامل ہو گئی۔ یہ لڑائی کئی گھنٹے جاری رہی، آخر مسلمانوں کے لشکر کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ کچھ دیر بعد دشمنوں کا لشکر ہزاروں لازیں اور تڑپتے زخمی چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر رہا تھا۔ اچانک ایک جانب سے دشمنوں کا ایک سپاہی گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا۔ اس نے بلند آواز سے کہا مجھے مسلمانوں کے امیر سے راز کی باتیں کہنی ہیں۔ میں اپنے مذہب کے لوگوں سے بغاوت کرکے آیا ہوں۔
مسلم فوج کے سپاہی، اس کی طرف بڑھے اور اسے امیر لشکر کے پاس لے گئے۔ وہ شخص امیر کے پاس پہنچا۔ احتراماً جھکا اور پھر اچانک اس نے اپنے لباس سے ایک خنجر نکال کر امیر لشکرکے سینے میں گھونپ دیا۔ یہ حملہ اتنی سرعت سے ہوا کہ موقع پر محافظ کچھ نہ کر سکے۔امیر لشکر کے سینے سے خون بہہ نکلا۔ اسی وقتبہت سے محافظ لپکے۔ کچھ نے امیر کو سنھبالا اور کچھ نے حملہ آور کو پکڑ کر اس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
اطبا، امیر لشکر کی جان بچانے میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن امیر لشکر نے رب سے، مسلم سپاہ کی فتح اور اپنی شہادت کی جو دعائیں رات بھرمانگی تھی وہ شرف قبولیت حاصل کر چکی تھی۔ اسلامی فوج ظفر مند ہوچکی تھی اور امیر لشکر شہادت کا مرتبہ پاچکے تھے۔

مراد اول کے کارنامے

مراد اول نے تقریباً تیس برس حکومت کی جن میں سے تقریباً 24 برس جنگوں اور معرکہ آرائیوں میں گزرے، چنانچہ انہیں تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی طرف توجہ دینے کا بہت زیادہ موقع نہ مل سکا، تاہم ان کا دور، مملکت میں توسیع کے ساتھ ساتھ بھر پور استحکام کا دور تھا۔ انہوں نے تعمیرات کے سلسلے میں بھی اقدامات کیے۔ جب انہوں نے شہر ادرنہ کو اپنا دارالحکومت بنایا تو اس شہر میں متعدد شان دار عمارتیں تعمیر کروائیں۔ شہر برسہ (بروصہ) میں ایک بہت خوبصورت جامع مسجد “اولو جامع“ کے نام سے مراد اول نے بنوائی تھی۔
“اولو جامع” دراصل نئی طرز کی مساجد تھیں، جن کی چھتیں مسلح اور سپاٹ نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ ستونوں کے درمیانی فاصلوں پر چھتریاں سی تعمیر کی جاتی تھیں۔ ترکی میں یہ مساجد اپنے مخصوص طرز تعمیر کے ساتھ آج بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔ برسہ کی اولو جامع میں بھاری ستونوں کی پانچ قطاریں تھیں، جو محراب کی سمت جاتی تھیں۔ ہر قطار میں چار چار گنبد بنے ہوئے تھے۔ درمیانی قطار کے دوسرے خلا کو کھلا رکھا گیا تھا، جس کے نیچے وضو کے لیے حوض تھا۔ عثمانیوں کے دور کی یہ خاص بات ہے کہ انہوں نے مساجد کو باقاعدہ ادارے کی شکل دی اور مسجد کے ساتھ مدرسہ اور شفاخانے بھی تعمیر کیے تھے۔ مراد اول نے برسہ کے مقام چکر گہ، نیز، سرس، بیلہ جک اور ینی شہر میں بھی جامع مساجد تعمیر کروائی تھیں۔ برسہ کی مسجد میں چند حجرے بھی بنوائے گئے تھے، جہاں حکمراں اپنے دور کے نامور علما کے ساتھ اہم علمی اور انتظامی امور پر بحث ومباحثہ کیا کرتے تھے۔
برسہ ہی میں ایک بڑے مدرسے اور مسافر خانے کی عمارتیں بھی مراد اول نے بنوائی تھیں۔ انہوں نے ازنیق میں ایک عالی شان عمارت اپنے والده نیلو فرخاتون کے نام پر “نیلوفر عمارتی” کے نام سے تعمیر کروائی۔ اس عمارت میں نصب کتبے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمارت 790 ہجری 1388 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس میں مخصوص ترتیب سے چھہ گنبد اس طرح تعمیر کیے گئے تھے کہ ایک جھمکا سا محسوس ہوتے تھے۔ پانچ حصوں کی ڈیوڑھی تھی جس کی مسقف (پت دار) محرابیں، خوبصورت ستونوں پر قائم تھیں۔ دیواروں پر رنگین اور چک دار پتھر نصب کیے گئے تھے۔ مراد اول نے ادرنہ میں قلعے کے باہر ایک قصر بھی بنوایا تھا جہاں وہ 767 ہجری 1365 عیسوی میں منتقل ہو گئے تھے۔ یہ قصر میدان قاداق میں واقع تھا۔ یہ قصر اتنا مضبوط تھا کہ بعد کے ادوار میں بھی اسے فوجی مرکز کے طور پر استعمال کیاجاتا رہا حتٰی کہ انیسویں صدی کے اواخر میں بھی یہاں فوجی تربیت گاہ قائم کی گئی۔
مراد اول نے ینی شہر میں صوفیا کرام کے لئے ایک خانقاه بھی تعمیر کروائی تھی۔ وہ مذہبی رجحانات رکھتے تھے۔ انہوں نے مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کے لیے بہت سی اراضی وقف کر دی تھیں۔ مراد اول کے دادا اور دولت عثمانیہ کے پہلے فرمانروا عثمان خان کے زمانے سے ایک دینی تحریک بہت موثر کردار ادا کر رہی تھی۔ یہ تحریک “اخی تحریک” کہلاتی تھی جس کا آغاز مولانا جلال الدین رومی اور شیخ محی الدین ابن عربی کی تعلیمات اور کوششوں سے ہوا تھا۔ عثمان خان بھی اس تحریک کے رکن تھے۔ اس تحریک کے ارکان نہ صرف دین کا اچھا علم رکھتے تھے بلکہ فلاحی خدمات کے اعتبار سے بھی بہت آگے تھے ۔
مراد اول 762 ہجری 61!1360 عیسوی میں انقرہ کا قبضہ اخی تحریک کے ارکان ہی سے لیا تھا۔ مراد اول کی ایک دستاویز 767 ہجری 1366 عیسوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراد اول بھی ان تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔
مراد اول کے عہد میں علم کی ترویج و اشاعت کے لیے ترکی زبان کو بھی استعمال کیا جانے لگا۔ اس سے قبل سرکاری دستاویزات فارسی زبان میں لکھی جاتی تھیں۔ کتبوں اور قانونی دستاویزات میں عربی زبان استعمال ہوتی تھی۔ دینی کتب عربی میں اور تصوف کی کتابیں عربی اور فارسی میں لکھی جاتی تھیں۔ مراد اول کے احکام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دور میں سرکاری معاملات میں ترکی زبان کو اہمیت دی جانے لگی تھی۔ اس دور میں ترکی زبان میں کتابیں تصنیف ہونے لگی تھیں اور کئی کتابوں کا عربی اور فارسی سے، ترکی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق قونیه، نگده، لاذنیہ، سنوب، سیواس، قیر شهر، برسہ اور ازنیق میں چودھویں صدی عیسوی کے دوران ترکی زبان میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں، لیکن افسوس کہ ان میں سے بیشتر ضائع ہو گئیں، تاہم کچھ کتابیں سلامت ہیں جنہیں ترکی اور دنیا کے دیگر علائب گھروں میں محفوظ کردیا گیا ہے۔
ان کتابوں میں سے ایک سورۂ ملک کی تفسیر پر مشتمل ہے جو انقرہ کے ایک مصنف مصطفٰی بن محمد نے مراد اول کے بڑے بھائی سلیمان پاشا کے لئے لکھی تھی۔ کتب خانہ عام بایزید میں اسی مصنف کی ایک کتاب حلوالنا صحین کے نام سے ہے۔ قلعہ توقات کے حاکم عارف علی نے 762 ہجری 1361 عیسوی میں مراد اول کی فرمائش پر ایک کتاب دانشمند نامہ لکھی۔ مراد اول ہی کے دور میں مشہور کتاب کلیلہ و دمنہ کا ترکی زبان میں منظم ترجمہ کیا گیا۔
نظم کے میدان میں، ایک شاعر، احمد نے 792 ہجری 1390 عیسوی می “اسکندرنامہ” تصنیف کی جو بہت مشہور ہوئی۔ اس کتاب میں عثمانی فرمانرواؤں کی تاریخ، اشعار کی صورت میں بیان کی گئی ہے۔ احمدی کو ترکوں کی پہلی منظوم تاریخ کا مصنف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کی نظموں میں شہر برسہ کے بارے میں تفصیل بھی شامل ہے۔ ایک اور شاعر شیخ اوغلی مصطفی (پیدائش 741 ہجری) نے 789 ہجری 1387 عیسوی میں “خورشید نامہ” کے نام سے کتاب تصنیف کی۔ ان کا تعلق گر میان کی ریاست کے ایک بااثر خاندان سے تھا۔ ایک اور شاعر شادی یاشادنے 763 ہجری 1361 عیسوی میں داستان قتل حسین رضی اللّٰہ عنہ کو نظم کیا۔ ایک اور شاعر عزالدین اوغلی نے نظم طاوس لکھی جو شیاد کی کتاب ہی میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مولوی یوسف مداح نے 770 ہجری 1369 عیسوی میں سیوداس میں مثنوی “ورقه و گلشاہ” لکھی۔
طب کے میدان میں اسحاق بن مراد نے 790 ہجری میں “منتخب الشفا” تحریر کی۔ مراد اول کے والد اور خان نے برسہ اور ازنیق میں جو بڑی جامعات (یونیورسٹیاں) قائم کی تھیں وہ مراد اول کے دور میں بھی کام کررہی تھیں۔
مراد اول کے دور میں زراعت نے بڑی ترقی کی۔ انہوں نے زری نظام کو جدید انداز سے مرتب کیا اور نئے اصولوں کے تحت زمینوں کو تقسیم کیا۔ اس دور کی کامیاب زراعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وادی مرتزه (اسے وادی مارزا بھی لکھا گیا ہے) میں صرف چاول کی کاشت سے عثمانی حکومت کو سالانہ چالیس لاکھ آقچہ (چاند کی کاسکہ) کی آمدنی ہوتی تھی۔

مراد اول کے دور سے قبل اپنی مملکت میں خمس کے نظام پر عمل در آمد نہیں ہورہا تھا۔ خمس کے نظام سے مراد یہ ہے کہ اموال غنیمت کا پانچواں حصہ حکومت کو دیا جاتا ہے اور حکومت اسے شریعت کے اعتبار سے تقسیم کرتی ہے۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے اس دور کے مشہور عالم شیخ قرہ رستم نے 763 ہجری 1361 عیسوی میں قاضی عسکر (فوجی قاضی) خلیل آفندی کو اس جانب متوجہ کیا۔ خلیل آفندی نے مراد اول کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ مراد اول نے حکم دیا شریعت کے مطابق خمس کا نظام نافذ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک شعبہ قائم کیا گیا جس کے نگراں شیخ قرہ رستم مقرر ہوئے۔
مراد اول نے فوجی نظام کو نئے خطوط پر استوار کیا۔ نئے علاقوں کو تسخیر کرنے اور دشمنوں کی شر انگیزیوں کا جواب دینے کے لئے عسکری اعتبار سے طاقتور ہونا، ان کے لئے بے حد ضروری تھا،
چنانچہ ایک جانب تو انہوں نے مفتوحہ علاقوں میں مختلف قطعہ ہاۓ اراضی، اپنے سپاہیوں اور افسروں میں تقسیم کے جو جاگیر کے طرز پر تھے۔ چھوٹی جاگیریں “تیمار” اور بڑی “زعامت” کہلاتی تھیں۔ دوسری جانب جن افراد یہ قطعہ ہائے اراضی دئے گئے ان میں سے ہر ایک کے لئے لازم تھا کہ وہ جنگ کے موقع پر ایک یا ایک سے زائد مسلح سوار فراہم کرے گا۔ فوج کی افرادی قوت میں اضافہ کے اس نظام کا آغاز مراد اول ہی کے دور میں ہوا۔ مراد اول نے ادنی فوجی خدمات کے لئے بھی ایک خصومی سپاه تیار کی، جس کے ذمے اصطبل کی صفائی، خیمہ نصب کرنا، سامان کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ جیسے کام تھے۔ یہ سپاه، رعایا میں سے افراد کو منتخب کر کے تیار کی گئی تھی۔
مراد اول ہی کے دور میں سپاہیوں کے لیے  پرچم تیار کیا گیا جس کا رنگ سرخ تھا۔ مراد اول کے والد اور خان نے اپنے دور حکومت میں دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج قائم کی تھی جو “ینی چری” یعنی “نئی فوج” کہلاتی تھی۔ مراد اول نے “ینی چری” کے نظام کو بے حد مستحکم بنا دیا اور ان کی کوششوں سے اس فوج کو بڑی وسعت حاصل ہوئی۔
مراد اول سے قبل عثمانیوں کی بحری طاقت برائے نام تھی۔ ادرنہ فتح کرنے کے بعد مراد اول نے بحریہ پر بھر پور توجہ دی اور کچھ ہی عرصے میں جنگی جہازوں کا ایک بڑا بیڑہ تیار کرلیا۔
مراد اول کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ جنگوں میں عثمانیوں نے پہلی بار توپ اور گولہ بارود کا استعمال ان ہی کے دور میں کیا گیا۔ عثمانیوں کی پہلی توپ 766 ہجری 1389 عیسوی میں بھی مراد اول کی فوج نے توپوں اور بندوق کا استعمال کیا۔ اس سے قبل صرف تلواروں، نیزوں اور تیروں سے جنگ لڑی جاتی تھی۔

مراد اول نے فوج میں ایک نئے عہدے کا بھی اضافہ کیا، یہ عهده ”ووینوق“ کہلاتا تھا۔ دراصل یہ فوجی “سائیس” کا عہدہ تھا۔ اس عہدے پر افراد کے تقرر سے قبل سپاہیوں کو اپنے اپنے گھوڑوں کی دیکھ بھال بھی خود کرنی پڑتی تھی، لیکن اس عہدے پر افراد مقرر ہو جانے کے بعد سپاہی اب اپنی پوری توجہ جنگ پر مرکوز رکھ سکتے تھے۔ گھوڑوں کی دیکھ بھال اور تازہ دم گھوڑے ہر وقت فراہم کرنے کے لیے ”ووینوق“ موجود تھے، جو فوج کے پچھلے حصے میں رہتے تھے۔
مراد اول کا دور اپنی چند نمایاں خصوصیات کے باعث عثمانیوں کی تاریخ میں بے حد ممتاز ہے۔ مراد اول کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عثمانی مملکت کو بے پناہ وسیع بنا دیا اور انہوں نے ان تمام علاقوں کو فتح کیا جہاں آج کل یورپی ترکی، بلغاریہ، البانیہ، یوگوسلاویہ اور یونان کا بڑا حصہ واقع ہے۔ دوسری جانب انہوں نے اس علاقے کے بڑے حصے کو بھی عثمانی قلمرو کا حصہ بنا دیا جہاں آج کل ایشیائی ترکی واقع ہے۔ اس دور میں یہاں رومی سلجوقیوں کا اقتدار ختم ہو جانے کے بعد بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہو گئی تھیں۔ مراد اول نے اپنی حکمت اور تدبر سے کام لے کر ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ایک عثمانیی سلطنت میں ضم کر دیا۔
اس طرح مراد اول کو اپنے والد سے جو ایک لاکھ دو ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل مملکت حاصل ہوئی تھی، اسے انہوں نے چار لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر تک وسیع کر دیا۔ انہوں نے جن علاقوں کو فتح کیا، عثمانی حکمراں ان علاقوں پر مزید پانچ سو برس تک حکومت کرتے رہے۔
مراد اول ہی کے دور میں فوجی لحاظ سے اہم شہر ادرنہ فتح ہوا۔ یہ شہر اس لحاظ سے بے حد اہم تھا کہ یورپ کو جانے والے تمام راستے اسی شہر سے گزرتے تھے اور اسے فوجی مرکز بنا کر یورپ کے خلاف پیش قدمی کی جاسکتی تھی۔ مراد اول ہی کے عہد میں عثمانیوں نے یورپ کی کی کسی ریاست سے سرکاری معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں بلقان کی جمہوریہ راغوزا نے عثمانیوں کی بالادستی تسلیم کی اور ترکوں کو سالانہ خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا جس کے بدلے راغوزا کو تجارت کی آزادی دی گئی۔
مراد اول ہی نے پہلی بار مصر اور شام کی مملوک حکومت سے عثمانیوں کی جانب سے سیاسی تعلقات قائم کیے۔ یورپ میں جب مراد اول کو فتوحات حاصل ہوئیں تو مصر کے حکمراں برقوق نے ایک خط میں مراد کو “سلطان الغزات” (جنگوں کا بادشاہ) کے لقب سے یاد کیا اور اظہار مسرت کیا۔ مراد اول بر صغیر (پاک و ہند) کے فرمانروا فیروز شاہ تغلق کے ہم عصر تھے۔
مراراول نے پہلی بار عثمانیوں میں وزیر اعظم کے عہدے کا اضافہ کیا جو “صدر اعظم” کہلاتا تھا۔ پہلے صدر اعظم جندرلی خیر الدین خلیل پاشا تھے۔ انہوں نے ترک مملکت کو مضبوط و مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مراد اول ہی نے پہلی بار قاضی عسکر یعنی “فوجی قاضی” کا عہدہ بھی قائم کیا۔ ان کے دور میں ایک اور عہدہ بک لربکی کا تھا۔ اس عہدے کے لئے “امیر الامرآ” کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ مراد اول کے عہدے میں لالہ شاہین کو بک لربکی (یابیگلربیگی) مقرر کیا گیا۔ لالہ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں اتالیق یا مربی۔ بیگلر بیگی سے مراد ہے بیگوں کا بیگ۔ ابتدا میں یہ لقب صرف سپہ سالار اعظم کے لئے استعمال ہوتا تھا، بعد میں یہ صوبوں کے حاکموں کے لئے مخصوص ہو گیا اور آگے چل کر محض ایک اعزاز رہ گیا۔

Who was Ertugrul | ارطغرل کون تھا

History of Osman Ghazi in Urdu

Orhan Ghazi |اور خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *