Sharm o Haya

اجزاء ایمان میں ایک بڑا اور اہم جزو شرم و حیا ہے۔ یہ ایک بڑا شعبہ ہے ایمان کا حدیث شریف کا مضمون ہے کہ حیا ایمان کا نصف حصہ ہے جب یہ ختم ہو جاتا ہے تو دوسرا حصہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے اس زمانے میں مسلمانوں کے پاس حیا کہاں ہے کس کے پاس ہے، معاشرہ کی لعنتوں نے حیا کا مفہوم ہی ہمارے ذہنوں سے نکال دیا ہے اور ہم کو اس کا ذرا احساس نہیں نصف ایمان تو ڈھایا جا چکا ہے پھر نصف کی بقا کی کیا صورت ہوگی؟ کبھی آپ نے اس بات پر غور کیا؟
اب ڈھونڈیئے چل کر حیا کہاں ہے؟ کس جگہ ہے سب سے پہلے اپنی طرف نظر ڈالئے آپ کے نفس نے آپ کو اس چکر میں ڈال رکھا ہے کہ آپ تھوڑے بہت دیندار آدمی ہیں۔ نماز روزہ فرائض واجبات ادا کر لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود کیا آپ نے غور کیا ہے کہ آپ کہاں کہاں حیا سے کام لیتے ہیں؟ کہاں کہاں آپ کی نظر بہکتی ہے خدا اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے احکام کی صریح خلاف ورزی دیکھ کر کب آپ کو غیرت آتی ہے خلاف شرع کام کرنے میں کب خود آپ شرم محسوس ہوتی ہے؟
بلکہ اس کے بر خلاف جانتے بوجھتے غیر شرعی باتوں میں کتنی رغبت اور دلکشی محسوس کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی جتنی غیرت ایمانی ہمارے پاس ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔
اب ہم اس کی کیا تشریح کریں؟ ہر شخص خود اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھ لے اپنی ہی ذات کو پہلے دیکھ لیں پھر اپنے اہل و عیال پر نظر کریں۔
کیا ہمارے لڑکوں میں حیا ہے؟ کیا ہماری لڑکیوں میں حیا و شرم ہے۔ حیا تو کہیں بھی نہیں ہے۔ شرم و حیا سے سب کے سب بیگانہ اور آزاد ہیں نفس و شیطان نے سب سے پہلے ہماری حمیت اور غیرت ایمانی پر ڈاکہ ڈالا ہے۔
آدھا ایمان تو جا چکا، اب اعمال و طاعات میں جان آئے تو کہاں سے؟ عورت کا سب سے بڑا شرف نسوانیت حیا ہے جس عورت میں حیا نہیں اس میں نسوانیت ہی باقی نہیں سارے جسم کا پردہ اب تو قریب قریب اتر گیا ہے عقلوں پر پڑ گیا اب لباس پوشاک ہی دیکھ لیجئے۔
کھلا ہوا سر اور سینہ، غیر محرموں سے بےمحابا ملنا جلنا، حیا کا تو نام بھی باقی نہیں رکھا اور یہ بے حیائی کے مناظر آج اچھے خاصے دیندار اور شریف گھرانوں میں بھی عام ہیں۔
اس کثرت کی بے حیائی نے ہمیں بے حس بنا دیا ہے نہ گھروں میں حیا و شرم دکھائی دیتی ہے، نہ گھروں کے باہر۔

کتنی عمر کی لڑکی پر پردہ فرض ہے

فقہاء کرام رحمہم اللّٰہ تعالٰی نے دلائل و تجربات کی روشنی میں فیصلہ فرمایا ہے کہ لڑکی نو سال کی عمر میں حد شہوت کو پہنج جاتی ہے اس لئے نو سال کی لڑکی پر پردہ فرض ہے نو سال کی عمر میں لڑکی بالغ ہو سکتی ہے تو اس عمر میں قریب البلوغ بطریق اولی ہو سکتی ہے اور قریب البلوغ پردہ کت حکم میں بالغہ کی طرح ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *