Sharm o Haya ki Ahmiyat

Sharm o Haya ki Ahmiyat

شرم و حیا کی اہمیت

جو چیز جس قدر قیمتی ہوتی ہے اس کی حفاظت کا بندوبست بھی اسی کے مطابق کیا جاتا ہے کوئی شخص سونا ہاتھ میں لیکر نہیں گھومتا کیونکہ حفاظت کا تقاضہ ہے کہ برسر عام اس کی نمائش نہ کی جائے کہ کہیں کوئی اچک نہ لے۔ دس بیس روپے والی کرنسی اگر بٹوے کے سامنے والی جیب میں رکھی جاتی ہے تو پانچ سو، ہزار اور پانچ ہزار مالیت کے نوٹ اندر کی جیبوں میں رکھے جاتے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کی جائے۔
عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ قیمتی چیز کی حفاظت کی جائے۔ عورت چاہے وہ ماں ہو۔ بہن ہو یا بیوی اور بیٹی ہر روپ میں قابل احترام اور عزت و آبرو کی جا ہے ۔ مرد کی غیرت اور عورت کی فطری حیا دونوں کا تقاضہ یہی ہے کہ عورت با پردہ رہے۔ تاکہ غیر مردوں کی نظروں سے وہ محفوظ رہے۔ اس لئے شریعت میں جہاں پردہ کے احکام آئے ہیں ان میں اس کی تاکید کی گئی ہے کہ عورت بلا ضرورت گھر سے نہ نکلے اگر چہ با پردہ ہی ہو۔ کیونکہ عورت کا گھر سے باہر قدم رکھنا ہی شروروفتن کی بنیاد ہے اور جبکہ وہ بے پردہ ہی نہیں بلکہ زیب و زینت کے ساتھ ہو تو کیا اس میں غور و فکر کی بات نہیں کہ مسلمان ہو کر یوں اعلانیہ احکام خداوندی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جس طرح انجکشن لگتے ہی دوائی خون میں شامل ہو کر ظاہری طور پر پورے جسم میں اثر مرتب کرتی ہے۔ اسی طرح بے پردہ عورت کی طرف اٹھنے والی ہزاروں نظریں بھی اپنا کام کرتی ہیں اور اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کتنی ہی خواتین مختلف جسمانی یا نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔
عقل کا تقاضہ قیمتی چیز کی حفاظت ہے تو حیا و غیرت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں، بہنوں بیویوں اور بیٹیوں کو یوں بے پردہ باہر نہ نکالیں جو خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے علاوہ زمین میں فتنہ و فساد کا ذریعہ ہے۔
عورت ہماری عزت بھی ہے۔ غیرت بھی ہے جس کی حفاظت کرنا ہمارا دینی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے۔ حیا و غیرت اللّٰہ تعالٰی کی نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ حیا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب حیا نہ رہے تو جو جی میں آئے کر گویا حیا تمام نامناسب حرکات و سکنات سے روکنے والی ڈھال ہے جس کے ذریعے ہم نفس و شیطان کے وار کو روک سکتے ہیں۔
اللّٰہ تعالٰی سمجھ اور توفیق نصیب فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *