انہوں نے یورپ میں مسلمانوں کی پہلی حکومت قائم کی

یورپ میں مسلمانوں ک پہلی حکومت اور خان ہی کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہوئی اور دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تشکیل دینے کا شرف بھی اور خان کو ہی حاصل ہے۔
اور خان کا نام تاریخ میں ار خان یا آر خان بھی لکھا گیا ہے۔
ابن بطوطہ نے ان کا ذکر ( اختیار الدین ار خان بک ) کے نام سے کیا ہے۔ ترک انہیں اور خان غازی کہتے ہیں۔ اور خان کی تاریخ پیدائش کے معاملے میں اختلاف ہے۔ عثمانی مؤرخین کے مطابق مطابق اور خان یکم محرم الحرام 687 ہجری / 2 فروری 1288 عیسوی کو پیدا ہوئے، دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق دیگر مؤرخین کا اصرار ہے کہ اور خان کی پیدائش یکم محرم الحرام 680 ہجری / 22 اپریل 1281 عیسوی کو عمل میں آئی۔ اور خان کے والد عثمان خان، دولت عثمانیہ کے بانی تھے، اور مال خاتون ایک بر گزیدہ بزرگ شیخ ادہ بالی کی صاحبزادی تھیں۔ اور خان کی تربیت میں ان کی والدہ کا بڑا ہاتھ تھا جو 45 برس تک اور خان کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔
اور خان کو پچپن ہی سے فنون حرب کی تعلیم دی گئی تھی۔ جب وہ 19 برس کے ہوئے تو یار حصار کے حکمران کی بیٹی نیلوفر خاتون سے ان کی شادی کر دی گئی۔ یہ ایک یونانی لڑکی تھی، جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسی خاتون سے اور خان کے دو لڑکے سلیمان پاشا ( 726 ہجری / 1326 عیسوی ) اور مراد اول ( 728 ہجری / 1328 عیسوی ) پیدا ہوئے۔
اور خان اپنے والد محترم عثمان خان کے شانہ بہ شانہ جنگوں میں شریک ہوتے رہتے تھے اور انہوں نے اپنی لیاقت، قائدانہ صلاحیت اور جرأت کا لوہا منوایا تھا۔717 ہجری / 1317 عیسوی میں عثمان خان نے شہر برسہ کا محاصرہ کیا۔ یہ یہ بہت اہم شہر تھا۔ اس شہر کی حفاظت کے لئے رومی فوج نے سر توڑ کوشش کی۔ عثمان خان کو بھی اس شہر کی اہمیت کا اندازہ تھا اس لئے انہوں نے محاصرہ ختم نہ کیا حتیٰ کہ دس سال بیت گئے۔
اس دوران میں عثمان خان بیمار ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ستر برس ہو گئی تھی۔ وہ برسہ کا محاصرہ اپنے بیٹے اور خان کے سپرد کر کے خود سعد چلے گئے، جو دریائے سقاریہ کی بائیں جانب واقع تھا۔ اور خان کی قیادت میں جاری رہنے والا محاصره کامیاب ثابت ہوا اور برسہ کی فوج نے فاقوں سے تنگ آکر بالآخر ہتھیار ڈال دیے۔ یہ فتح اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس جنگ میں کسی کا خون نہیں بہا۔
برسہ پر مسلمانوں کے قبضہ کے کچھ ہی دنوں بعد عثمان خان کا انتقال ہو گیا۔ عثمان خان نے اپنے انتقال سے قبل اپنے بیٹے اور خان کو نصیحت کی”ہماری روح تم سے اس وقت خوش رہ سکتی ہے جب تم خلق خدا کو خوش رکھو گے “
اور خان نے اپنے باپ کی نصیحت کا پوری طرح احترام کیا ۔ ان کا 33 سالہ دور حکومت اس بات پر شاہد ہے کہ انہوں نے خلق خدا کو خوش و خرم رکھا۔
عثمان خان کے دو بیٹے تھے۔ اور خان اور علا الدین اور خان کو جنگی فنون میں مہارت حاصل تھی اور علاالدین دینی علوم میں دسترس رکھتے تھے۔ تمام حالات اور خان کے حق میں تھے ۔ علا الدین یوں بھی صلح جو قسم کے انسان تھے۔ اور خان چاہتے تو پوری عثانی مملکت کے حکمران بنے کا اعلان کر دیتے لیکن انہوں نے ایسا کرنا پسند نہ کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی علا الدین کو پیشکش کی کہ مملکت کو آدها آدها تقسیم کرلیا جائے لیکن علا الدین نے اسے منظور نہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو آپ نیلوفر ندی ( بر سہ کے میدان سے گزرتی ہے ) کے کنارے کسی گاوں میں آباد ہو جانے کی اجازت دے دیں۔ اور خان نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور اصرار کرتے رہے کے علاالدین مملکت کیمانے سے انکار کر دیا اور اصرار کرتے رہے کہ علا الدین مملکت کی وزارت قبول کر لیں حتی کہ علاالدین نے ان کی بات مان لی۔

اصلاحات

علا الدین عثمانی قلمرو کے پہلے وزیر ہیں۔ ” پشا ” کا لقب بھی پہلی بار ان ہی کو دیا گیا ۔ انہیں فوج کا سپہ سالار بھی بنایا گیا، علا الدین کو وزارت سونپنے کا فیصلہ بہت اچھا ثابت ہوا ۔ اور خان کی حکومت کو استحکام اور وسعت بخشے میں علاالدین کا کردار بے حد اہم ہے ۔ وہ بہت اچھے منتظم تھے ۔ انہوں نے عثمانی حکومت کو فوجی، سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے بہت مضبوط بنادیا۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، اور خان نے اپنے والد کی زندگی میں ہی برسہ کو فتح کر لیا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کی ہدایت کے مطابق برسہ کو دارالکومت بنایا۔ اپنی حکمرانی کے پہلے ہی سال انہوں نے 726 ہجری/ 1326 عیسوی میں جزیرہ نما بیتینیا ( میتھینہ ) پر قبضہ کر لیا۔ یہ جزیرہ نما شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں خلیج نیقومدیہ اورمشرق میں باسفورس سے گھرا ہوا ہے۔ اور خان نے سمندرہ اور ایدوس کے مضبوط قلعوں کو رومیوں سے چھین لیا۔ یہ قعلے نیقومدیہ سے قسطنطنیہ جانے والی سڑک کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ یہ علاقہ ایک مشہور سپہ سالار اقچہ قوجہ کو دے دیا گیا اور انہی کے نام پر قوجہ ایلی کہلانے لگا۔ اس میں خلیج نیقو مدیہ  کا سارا ساحل شامل تھا۔ سمندرہ اور ایدوس کے مضبوط قلعے تسخیر ہونے کے نتیجے میں خلیج نیقومدیہ کی دونوں جانب ساحلوں پر کئی چھوٹے چھوٹے قصبے فتح ہوگئے تاہم قلعہ ہر کہ والوں نے زیادہ مزاحمت کی۔ اور خان کے ایک سالار قرہ مرسل نے یالوہ پر قبضہ کیا۔ یہ قصبہ اپنے گندھک کے چشموں کی وجہ مشہور تھا۔ قرہ مرسل نے جنوبی ساحلی علاقوں کو بھی فتح کیا۔ انہوں نے ایک چھوٹا بحری بیڑہ بھی بنایا، جس کی وجہ سے قسطنطنیہ والے، نیقومدیہ سے بحری مواصلات کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ قسطنطنیہ پر ان دنوں بازنطینی رومیوں کا قبضہ تھا۔
اب نقودی پر قبضہ بہت آسان ہو گیا تھا۔ چنانچه 726 ہجری / 1326 عیسوی میں نیقومدیہ فتح ہو گیا۔ اس شہر کو نیکو میڈیا بھی لکھا گیا ہے۔ ابتدائی زمانے کے عرب جغرافیہ نویں اسے نقمودیہ لکھتے تھے۔ آج کل اسے ازمید کہا جاتا ہے۔ ازمید چھن جانے کے بعد بازنطینی ( رومی ) سلطنت کے پاس ایشیا میں صرف ایک بڑا شہر نیقیا رہ گیا تھا۔ اس شہر کو نیکیا بھی لکھا گیا ہے، ترک اسے یزنیق یا از نیق کہتے ہیں۔ ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ ازنیق کا شہر جھیل ازنیق کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ شہر میں داخل ہونے کے لیے صرف ایک اونچی سنگی سڑک تھی جس کی دونوں جانب پانی تھا۔ بہ راستہ اس قدر تنک تھا کہ ایک وقت میں اس پر سے ایک ہی سوار گزر سکتا تھا۔

اس شہر میں بہت باغات تھے۔ اس کے گرد چار فصیلیں تھیں اور ہر دو فصیلوں کے درمیان ایک خندق تھی۔ ان خندقوں کو عبور کرنے لیے لکڑی کے ایسے پل تعمیر کیے گئے تھے جنہیں حسب ضرورت اٹھا لیا جاتا تھا۔ اور خان نے 730 ہجری / 1330 عیسوی میں اس شہر کو فتح کر لیا۔ اس موقع پر اور خان نے رواداری اور فراخ دلی کی اعلی مثال قائم کی۔ انہوں نے نیقیا کے باشندوں کو مکمل امان دے کر ان سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنا تمام مال و اسباب لے کر کسی دوسرے شہر میں جاسکتے ہیں۔ اس حسن سلوک کے نتیجے میں یہ ہوا کہ بہت سے غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس دوران آور خان کو چند چھوٹی ریاستوں کی طرف متوجہ ہونا پڑا جو سلجوقی سلطنت کے اندر قائم ہو چکی تھیں۔ ان میں ایک ریاست قرہ سی تھی۔ یہ علاقہ کسی زمانے میں آماسیہ کہلاتا تھا۔ قره سی میں ایلی عجلان بیگ کی حکومت تھی جن کے اور خان سے دوستانہ تعلقات قائم تھے۔ عجلان بیگ نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے طرسون کو تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لیے اور خان کے پاس بھیجا تھا۔ عجلان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے تیمور کو حکومت ملی لیکن لوگ ان سے ناخوش تھے۔ طرسون نے اور خان سے مدد چاہی اور بدلے میں برغمہ، بلکسری اورمد کے علاقے دینے کا وعدہ کیا۔ اور خان نے قره سی پر حملہ کر دیا اور راستے میں اولوبار، کرماستی اور دیگر کئی یونانی قلعوں کو بھی فتح کر لیا۔ طرسون اپنے بھائی کے ہاتھوں مارا گیا۔ 737 ہجری / 1336 عیسوی میں اور خان نے قرہ سی پر قبضہ کر لیا۔ اور خان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر ساحلی علاقوں میں آباد یونانیوں کی بڑی تعداد مسلمان ہو گئی۔ 738ہجری / 1337 عیسوی میں اور خان نے چھتیس بحری جہازوں کی مدد سے قسطنطنیہ کے قریب اترنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد غالباً تراکیا ( تھریںس ) پر قبضہ کرنا تھا، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور ترک اپنا صرف ایک جہاز بچا کر لا سکے۔ تھریس مقدونیہ کا حصہ تھا جس میں سالونیکا بھی شامل تھا۔ اس دوران تطنطنیہ کی باز نطینی حکومت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ کہاں تو یہ وقت تھا کہ یہ پورے اناطولیہ ( اشیائی ترکی ) سے شام تک پھیلی ہوئی تھی اور اب یہ صرف تھریس اور یونان میں موریا کے بڑے حصے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔
739 ہجری / 1338 عیسوی میں بازنطینی شہنشاہ اینڈ رونیکس سوم کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بعد ان کے نابالغ لڑکے جان پبولو غوس ( پلیولرگس ) کے سر پر تاج رکھ دیا گیا اور ان کوزنیوس ( کنٹا کو زین ) کو نگران مقرر کیا گیا۔ کانتا کوزنیوس نے صرف پانچ سال بعد خود کو شہنشاہ بننے کا اعلان کر دیا۔ ملکہ کو اعتراض ہوا اور دونوں میں لڑائی چھڑ گئی۔

کانتا کوز نیوس اور اور خان

کانتا کوزنیوس نے اور خان سے چھ ہزار سپاہی مانگے اور اپنی لڑکی  تھیوڈوراسے اور خان کی شادی کر دینے کی پیش کی۔ اور خان نے چھ ہزار سپاہی بھیج دیے جنہوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ ملکہ نے صلح کرلی۔ معاہدہ ہو گیا کہ کانتا کوزنیوس، اس کی بیوی، ملکہ اور شہزادہ جان پولو غوس، چاروں کی مشترکہ حکمرانی ہوگی۔ اور خان کی شادی تھیوڈورا سے کر دی گئی ۔
اور خان نے تھیوڈورا کو اجازت دی کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہ سکتی ہے۔ چھ ہزار عثمانی سپاہی واپس آگئے۔
چند سال بعد یعنی 750 ہجری / 1349 عیسوی میں کانتا کوزینوس کو پھر مدد کی ضرورت پڑی کیونکہ سروبا کے حکمران اسٹیفن دوشان نے سالونیکا پر حملہ کردیا تھا۔ اور خان نے کانتا کوزنیوس کی درخواست پر بیس ہزار سپاہی روانہ کر دیے جنہوں نے اسٹیشن کو سالونیکا میں شکست دی۔ عثمانی سپاہی واپس آگئے۔
754 ہجری / 1353 عیسوی میں کانتاکوزنیوس نے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، اس پر بازنطینی مملکت میں خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔ کانتاکونیوس نے پھر اور خان سے مدد مانگی اور یورپی ساحل کا ایک قلعہ معاوضہ کے طور پر پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ آور خان نے اپنے لائق بیٹے سلیمان پاشا کی سرکردگی میں میں ہزار سپاہی روانہ کر دیے، جن کی مدد سے جان بولوغوس کو شکست دی گئی اور قستطنطنیہ پر کانتاکوزنیوس کا قبضہ ہو گیا۔کانتاکوزنیوس نے وعدہ کے مطابق قلعہ تزیمپہ ( زنپ ) عثمانیوں کے حوالے کر دیا۔

گیلی پولی

اس کے چند دنوں بعد تھریس میں شدید زلزلہ آیا۔ کئی شہروں کی فصیلوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ ان میں کالی پولی کا شہر بھی تھا۔ اسے اب گیلی پولی کہا جاتا ہے۔ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان بہنے والے کم چوڑے سمندر، درۂ دانیال کے مغربی ساحل پر تزیمپہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع بہت اہم قلعہ تھا۔ قستطنطنیہ سے اس کا فاصلہ 212 کلومیٹر ہے۔ سلیمان نے زلزلہ کو قدرت کا ایک اشاره قرار دیا اور زبردست حملہ کرکے گیلی پولی پر 759ہجری / 1357 عیسوی میں قبضہ کر لیا۔ یہاں سے ترکوں کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی۔ سلیمان نے تھریس کے چند دیگر مقالات بھی فتح کر کے ان میں ترک اور عرب باشندوں کو لاکر آباد کردیا۔
گیلی پولی کی فتح عثمانیوں کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ اس کے صرف دو صدیوں عثمانیوں سلطنت ویاناکی کی سرحد تک پھیل چکی تھی۔
بازنطینی حکومت بہت کمزور ہو چکی تھی اور وہ اب دولت عثمانیہ کی باج گزار تھی۔ اور خان کو زمام حکومت سنبال 32 سال ہورہے تھے۔ 726 ہجری / 1326 عیسوی میں اور خان کو اپنے والد عثمان خان کے انتقال پر جو مملکت ملی تھی اس کا رقبہ آٹھ ہزار مربع کلومیٹر تھا اور خان کے 32  سال کامیاب حکومت کرنے کے بعد اب عثمانی قلمرد کا رقبہ بڑھ کر ایک لاکھ دو ہزار مربع کلومیٹر ہو چکا تھا۔
اور خان اب بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کی ساری امیدیں اپنے ہونہار بیٹے سلیمان سے وابستہ تھیں۔ سلیمان میں ایک اچھے منتظم کی جملہ صفات موجود تھیں اور مختلف مہمات میں انہوں نے بڑی فراست اور جرأت کا ثبوت دیا تھا۔ لیکن سلیمان کی زندگی کے دن پورے ہو چکے تھے۔ 759 ہجری / 1358 عیسوی میں سلیمان گھوڑے کے بدک جانے سے گھوڑے سے گر پڑے اور جاں بحق ہوگئے۔ انہیں تراکیا ( تھریس ) میں بلیر کے مقام پر اس جامع مسجد کے قریب پردخاک کیا گیا جو انہوں نے ہی تعمیر کروائی تھی۔ سلیمان موت کا اور خان کو شدید صدمہ پہنچا اور اس صدے کی تاب نہ لا کر 760 ہجری / 1359 عیسوی میں اور خان کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 27 سال تھی۔ انہیں برسہ میں اپنے والد کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔

علا الدین اور عثمانی فوج

جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے، اور خان کی حکومت کو سیاسی اور اقتصادی استکام بخشنے میں اور خان کے بھائی علاالدین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ علا الدین کا بڑا کارنامہ عثمانیوں کی فوجی طاقت میں کئی گنا اضافہ کروانا ہے۔ ان کے پر حکمت فیصلوں کے نتیجے میں عثمانیوں کی جنگی صلاحیت اس قدر بڑھ گئی کہ انہوں نے آئندہ تین سو برس تک فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور خان سے قبل عثمان خان اور ارطغرل کے عہد میں ترک فوج کی کوئی باقاعدہ شکل متعین نہ تھی۔ فوج کی وردی کبھی نہ تھی۔ علا الدین نے ایک باقاعدہ فوج کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے پیدل سپاہیوں کی ایک فوج تیار کی جس کانام پیادے تھا۔ دس، سو اور ہزار کی تعداد میں سپاہیوں پر مشتمل دستے بنائے گئے تھے۔ ان کی باقاعدہ تنخواہیں مقرر تھیں۔ ہر دستے کا نگران مقرر تھا جو اپنے ماتحت پیادوں کو جنگی تربیت دیتاتھا۔
730 ہجری / 1330 عیسوی میں اور خان کو عثمانی خاندان کے ایک فرد قره خلیل نے مشورہ دیا کہ جنگوں میں جو عیسائی بچے جنگی قیدی بنائے جاتے ہیں ان میں سے دس بارہ سال کی عمر کے ایسے بچوں کو منتخب کیا جائے جو ذہنی اور جسمانی لحاظ سے صحت مند ہوں اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی دی جائے۔ اور خان کو یہ تجویز بہت پسند آئی۔ انہوں نے اپنے بھائی علاالدین کو اس نئی فوج کی تربیت و تنظیم کی ذمے داری سونپ دی۔ علا الدین نے اس فوج میں عیسائی جنگی قیدیوں، ہتھیار ڈالنے والے یونانیوں اور باہر سے آنے والے تاتاریوں کے نوعمر بچوں کو شامل کرنا شروع کردیا۔
بعض مسیحی مؤرخین کے نزدیک عیسائی بچوں پر مشتمل فوج کا قیام زیادتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان بچوں کو کسی جبر کے ذریعے فوج میں شامل نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان بچوں کے والدین اور خان اور علاالدین کے شکر گزار اور احسان مند تھے کہ انہوں نے ان بچوں کو باعزت روزگار فراہم کیا اور انہیں عسکری تربیت دلوائی۔ ان میں سے بعض بچے بڑے سپہ سالار بنے۔
اس نئی فوج کا پہلا دستہ مرتب ہوا تو آور خان اس دستے کے نوعمر سپاہیوں کو لے کر اس وقت کے ایک بہت بڑے بزرگ حاجی بکطاش کے پاس لے گئے تا کہ ان سے دعائیں۔ حاجی بکطاش نے اپنے چہرے کی آستین ان لڑکوں کے قائدے کے سر پر رکھ دی اور فرمایا۔ اس دسته کا نام ینی چری ہے۔ اللہ اسے اور سفید رو کرے، ان کے ہتھیار قوی ان کی شمشیریں رواں اور ان کے تیر مہلک ہوں اور یہ کامراں ہوں۔ سفید رد ہونا دراصل ترکی محاورہ ہے جس کے معنی سرخرو ہونے کے ہیں۔ یہیں سے اس فوج کا نام ینی چری یعنی نئی فوج کو دیا گیا اب اسے انکشاری کہتے ہیں۔ حاجی بکطاش چونکہ اونچی سفید ٹوپی پہنتے تھے جس کی پشت کی جانب کپڑا لٹکا ہوتا تھا اس لئے ینی چری کے فوجی لباس میں بھی اسی قسم کی ٹوپی شامل کی گئی جو اس کی خاص علامت قرار پائی۔
ینی چری میں ہر سال ایک ہزار بچوں کو شامل کیا جاتا تھا، اس میں بہت سے ایسے بچے تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے، ان بچوں کو ایسے اچھے ماحول میں رکھا جاتا تھا کہ وہ خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوتے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ تین سو برس تک جاری رہا۔ اس کے بعد سلطان محمد رابع کے دور میں اس طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی اور 1058 ہجری / 1248 عیسوی سے خود اسی فوج کے سپاہیوں اور دیگر ترک باشندوں کے لڑکے فوج میں شامل کیے جانے لگے۔ اس طرح یہ فوج بہت وسعت اختیار کر گئی۔ یہ نئی فوج دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج کہی جاتی ہے۔ عثمانیوں کی فتوحات میں اس فوج نے اہم کردار ادا کیا۔
اور خان نے ینی چری کے سپاہیوں کے لیے نہایت عمده فوجی تربیت کا اہتمام کروایا۔ انہیں زمینیں اور دیگر مراعات بھی دی گئیں۔ یہ فوج جاں نثاری فوج بھی کہلاتی تھی۔ ہر جاں نثار کو روزانہ ایک اقچہ دیا جاتا تھا۔ یہ اس دور کا سکہ تھا جس میں چھ قیراط چاندی ہوتی تھی ۔ اس کا قطر اٹھاره ملی میٹر تھا۔ علاالدین نے پیادوں کی طرح سواروں کی بھی فوج تیار کی۔ ان میں مستقل تنخواہ دار سوار، چار دستوں میں تقسیم کردیے گئے۔ یہ فرمانروااۓ مملکت کے دائیں بائیں چلتے تھے۔ ایک خاص دسته سپاہی کہلاتا تھا۔ باضابطہ سواروں کی ایک فوج آ قینچی کہلاتی تھی۔ اس طرح عہد جدید میں پہلی مستقل فوج تیار کرنے کا اعزاز عثمانیوں کو حاصل ہے۔
اور خان کے عہد میں خبر رسانی کا نظام اتنا اچھا تھا کہ انہیں ہمیشہ پہلے سے معلوم ہو جاتا تھا کہ دشمن کی فوج کب اور کہاں سے آرہی ہے اور کس مقام پر اس سے مقابلہ کرنا مفید ہو گا۔ ایک قدیم سیاح برو کئے کا کہنا ہے کہ عثمانی فورا روانہ ہو سکتے ہیں اور سو عیسائی فوجی، دس ہزار عثمانی سپاہیوں کے مقابلے میں زیادہ شور کرتے ہیں۔ طبل بجتے ہی عثمانی سپاہی فورا کوچ کر دیتے ہیں اور جب تک حکم نہ ملے اپنے سے اپنے قدم نہیں روکتے۔ ان کے پاس ہلکا اسلحہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ ایک رات میں اتنا فاصلہ طے کر لیتے ہیں جتنا فاصلہ عیسائی سپاہی تین دن میں طے کرتے ہیں۔

کارنامے

اور خان جب برسراقتدار آئے تو اس وقت تک ان کی مملکت میں سلجوقی سکے رائج تھے۔ اور خان کے بھائی علاالدین نے وزیر بننے کے بعد اور خان کے نام کے نئے سکے ڈھلوائے۔ 248 ہجری / 1328 عیسوی میں پہلی عثمانی ٹکسال قائم ہوئی جہاں سونے اور چاندی کے سکے ڈھالے گئے۔ ان سکوں پر قرآنی آیت کندہ کی گئی تھی۔
اور خان علم کے شیدائی تھے۔ انہوں نے اپنی مملکت میں جابجا مدارس اور تعلیمی ادارے قائم کروائے۔ سب سے زیادہ ترقی پر برسہ (بروصہ) کو نصیب ہوئی. یہاں پہلی عثمانی جامعہ یونیورسٹی قائم کی گئی اس یونیورسٹی میں متعدد علوم کے شعبے تھے۔ کچھ ہی عرصے میں اس درسگاہ نے اتنی شہرت حاصل کر لی کہ ایران، عراق، عرب اور غزنی تک سے طلب حصول علم کے لیے یہاں آنے لگے۔
زنیق ( نیقیا ) میں بھی بڑی تعلیم گاہیں قائم کی گئیں۔ یہاں بھی ایک بڑا دارالعلوم بنایا گیا۔ یہ ایک بڑی یونیورسٹی تھی۔ اور خان اور علاالدین نے فروغ علم کی جو تحریک شروع کی تھی اسی میں انہیں سیکڑوں جید علما کرام کا تعاون حاصل تھا۔ ان علماء سے بیشتر نے شیخ ادہ بالی اور خان کے والد عثمان خان کے خسر سے استفادہ کیا تھا۔
حضرت مولی داود رحمۃ اللّٰہ کو ازنیق  کی یونیورسٹی کا گراں معلم ( چانسلر ) مقرر کیا گیا تھا۔ وہ بھی شیخ ادہ بالی کے خاص شاگرد تھے۔ ان سے بہت بڑی تعداد میں افراد نے علم حاصل کیا۔ وہ بڑے عالم ہی نہیں، نهایت باعملانسان بھی تھے۔ حضرت مولی داؤد کے انتقال کے بعد ازنیق یونیورسٹی کے انتظام کی حضرت تاج الدین الکراری پر ڈالی گئی۔ ان کی محنت کی وجہ سے ازنیق یونیورسٹی ایشیائے کوچک کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن گئی۔

اور خان کے دور میں ایک اور بڑے فقیه حضرت علا الدین اسود تھے۔ انہوں نے فقہ کی کتاب شرح وقایہ تصنیف کی۔ حضرت تاج الدین الکراری رحمۃ اللّٰہ کے انتقال کے بعد از نیق یونیورسٹی نگران معلم ان ہی کو بنایا گیا۔ اور خان اور علا الدین ہر معاملے میں حضرت علاالدین اسود رحمۃ اللّٰہ مشورہ لیتے تھے۔ وہ عثمانی مملکت کے قاضی القضاه ( چیف جسٹس ) بھی تھے۔
اور خان نے کئی مساجد بھی تعمیر کروائیں۔ ان میں برسہ کی عالی شان مسجد خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ یہ مسجد آور خان جامع کہلاتی تھی۔ اس مسجد میں اور خان نے ایک بڑا کتب خانہ بھی قائم کروایا تھا۔ ایک اور بڑی مسجد ازنیق میں تعمیر کروائی گئی۔ ازنیق اب کھنڈر بن چکا ہے۔ اور خان کی مسجد اور حماموں کے کھنڈرات موجود۔
اور خان علما کرام کی بہت عزت کرتے تھے۔ عارف بالله الشيخ الغزال رحمۃ اللّٰہ سے انہیں بڑی عقیدت تھی۔ برسہ میں ان کے لئے اور خان نے بڑی خانقاہ تعمیر کروائی تھی۔ ہزاروں افراد کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ان کے انتقال پر اور خان نے ان کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ ایک اور بزرگ عارف بالله قروجا احمد نے بھی اور خان کی تربیت اور رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ مولی ابدالی، شیخ ابدالی مراد اور عارف بالله دوغلوبابا کے بھی اور خان بے حد معتقد تھے۔
اور خان کی کوشش یہ تھی کہ بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنے والوں کی اچھی تربیت کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ علا الدین اور قره خلیل نے اور خان کی ہدایت پر کئی تعلیم گاہیں قائم کیں جہاں نو مسلم افراد کو دینی تعلیم دی جاتی تھی۔
اور خان نے برسہ میں پہلا سرکاری شفاخانہ ( اسپتال ) بنوایا۔ انہوں نے مملکت کو اقتصادی لخاظ سے خوشحال بنانے کے لئے نہریں تعمیر کروائیں، زراعت کو فروغ دیا۔ ناداروں کی امداد کے لئے ہر شہر میں محتاج گھر قائم کیے۔ پولیس اور بلدیات کے محکمے تشکیل دیے۔ نئی سڑکیں تعمیر کروائیں اور حفاظتی چوکیوں کا بندوبست کیا۔ انصاف کو فروغ دینے کے لیے ہر شہر میں عدالتیں قائم کیں۔
اور خان کی اہلیہ نیلوفر خاتون نے بھی رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور خان نے برسہ کو بے حد ترقی دی۔ 740 ہجری / 1340 عیسوی میں انہوں نے قلعے کے نیچے میدان میں ایک مسجد، ایک لنگر خانہ، ایک حمام اور ایک کارواں سرائے تعمیر کروائی۔ آج بھی یہی علاقہ برسه کاسب سے بارونق تجارتی مرکز ہے۔ اسی دور میں شہر میں نئے نئے محلے مثلا علاالدین بیگ، چوہان بیگ، قوجه نائب آباد ہوئے۔ 734 ہجری / 1333 عیسوی میں مشہور سیاح ابن بطوطہ نے برسہ کا دورہ کرنے کے بعد لکھا
یہ ایک بڑا اور عظیم الشان شہر ہے جس میں دلکش بازار اور وسیع سڑکیں ہیں۔ یہاں کا سلطان اختيار الدین اور خان ابن السلطان عثمان ہے۔ یہ سلطان ملوک ترکمان میں سب سے بڑا اور مال، شہروں اور لشکر کے اعتبار سے سب سے بڑھا ہوا ہے۔
اس کے قلعوں کی تعداد تقریباً 1000 ہے۔ یہ اکثر اوقات ان کا دورہ کرتا رہتا ہے اور ہر قلعہ میں وہاں کے لشکر کی اصلاح اور حالت کی تحقیق کرتا رہتا ہے۔ وہ کبھی پورا ایک مہینہ کسی شہر میں نہیں ٹھہرا۔ اس نے برسہ کا بارہ سال محاصره کر کے اسے فتح کیا۔ میری بھی اس سے ملاقات ہوئی “
اور خان اپنی رعایا کے لئے بے حد شفیق تھے۔ ان کی حقیقت ایک مہربان باپ کی سی تھی۔ وہ بہت سادہ مزاج کے مالک تھے، معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کے دور میں محتاج گھر قائم کیے گئے تھے وہ اکثر ان کا دورہ کر لیا کرتے تھے اور وہاں ناداروں اور مستحق افراد میں اشیا کی تقسیم کا معائنہ کرتے تھے۔ اکثر اوقات وہ مساکین اور مستحقین میں روٹی اور سالن اپنے ہاتھ سے تقسیم کیا کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *