Mayoos Hona Choriye | مایوس ہونا چھوڑئیے

Mayoos Hona Choriye | مایوس ہونا چھوڑئیے

بعض لوگ بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں اور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مایوسی انسان کو عمل سے دور کرتی ہے اور بے عمل سے مایوسی مزید بڑھتی ہے، اور بے عملی کے نتیجے میں آدمی نقصان اٹھاتا ہے۔
مایوسی ایک کمزوری ہے، برائی ہے اور مسلمان کے لئے تو مایوس ہونا اس کی شان کے خلاف ہے خصوصاً طالب علم کے لئے تو اور بھی زیادہ اسی لئے مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔
قرآن حکیم میں صاف فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہ ہو مایوسی دل کا سکون چھین لیتی ہے اور جب آدمی کا سکون ختم ہو جائے تو اس کے لئے کام کرنا اور کوشش کرنا مشکل ہو جاتا ہے چاہے کیسے ہی حالات ہوں۔ کتنا ہی نقصان ہو جائے کوئی عزیز، دوست یا ساتھی کتنی ہی تکلیف پہنچائے، نا امید نہیں ہونا چاہئے کوشش کرتے رہنا چاہئے، انسان محنت اور کوشش کرتا رہے تو اس کا نتیجہ ایک نہ ایک دن ضرور نکلتا ہے اور اللہ تعالٰی کی رحمت ضرور جوش میں آتی ہے۔
اگر آپ دیکھیں کہ آس پاس کے لوگ مایوس ہو رہے ہیں تو آپ اثر نہ لیں بل کہ لوگوں کو سمجھائیں کہ اصلاح کے لئے امید اور کوشش ضروری ہے، کبھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ حالات نہیں بدلیں گے، حالات خراب بھی انسان ہی کرتا ہے اور بہتر بھی انسان کی کوشش سے ہی ہوتے ہیں۔
مایوسی دور کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ انسان فوراً عمل اور کوشش شروع کردے، عمل سے انسان کی ہمت بلند ہوتی ہے اور عمل کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے۔ نتیجہ نکلنے میں دیر ضرور ہو سکتی ہے، لیکن دیر سویر کامیابی ہو ہی جاتی ہے۔
حضرت سعد ابی وقاص رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عارضۂ قلب میں مبتلا ہوئے تو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
اپنے رب کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔
اور ساتھ ہی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طبیب کے پاس لے جانے کی ہدایت فرمائی۔ معالج نے تعلیمات نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشنی میں علاج کیا اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ایسی شفا پائی کہ پورے مشرق وسطیٰ میں جنگیں لڑیں اور فاتح ایران کہلائے۔
عقل کے کامل ہونے کی علامت یہ ہے کہ انسان بلند ہمت ہو اور جو پستی پر راضی اور مطمئن ہو وہ پست حوصلہ ہے۔
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں
میں نے اس سے بڑا اور برا کوئی عیب نہیں دیکھا کہ تکمیل پر قدرت کے باوجود کوتاہی کی جائے۔
جو آدمی روزانہ ارادہ تبدیل کر لینے کا خوگر ہو اور کبھی اس کو عملی جامہ نہ پہنائے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی گڑھے یا خندق کو پھاندنے کا ارادہ رکھتا ہو
اس کے لئے دور سے دوڑتا ہوا آئے اور جب قریب پہنچے تو ارادہ بدل دے۔ اور پھر ازسر نو اسی دھن میں لگ جائے اور وقت پر پھر ارادہ تبدیل کردے اور یو نہی کرتا رہے تو ایسا آدمی نہ گڑھا پار کرنے میں کامیاب ہوگا اور نہ کبھی اس کو اس سے چین نصیب ہوگا۔
جس کام کا ہم عزم کریں اس پر فی الفور عمل کی کوشش کریں اور ایسے کاموں کو جو اس کے لئے معاون اور مددگار ثابت ہوں ان پر شروع کردیں۔
ہمیشہ وہی لوگ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں جن کے ارادے پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور وہ اپنے دل و دماغ میں لفظ ناممکن یا مشکل کو کبھی نہیں آنے دیتے۔
یہی وہ قوت ارادہ ہے حیات انسانی کی کامرانیوں کا راز اور جلیل القدر انسانوں کی زندگی کا عنوان ہے، جب وہ کسی کام کا ارادہ کر بیٹھتے ہیں تو پھر کوئی طاقت ان کو اس سے ہٹا نہیں سکتی، وہ ہر راہ سے اس کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔
اس لئے آپ کبھی بھی کسی پریشانی کے وقت پریشان نہ ہوں، بلکہ بجائے مایوس ہونے اور دل تگ کرنے کے اپنی ہمت بلند رکھئے اور محنت کرتے رہئے ان شاءاللہ آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *