Maa Ki Mohabbat | ماں کی محبت

Maa Ki Mohabbat | ماں کی محبت

اللّٰہ تعالٰی نے کائنات میں بے شمار ایسی چیزیں پیدا فرمائی ہیں کہ جن سے قلب انسانی سکون و اطمینان حاصل کرتا رہتا ہے، اللّٰہ تعالٰی اور اس کے حبیب علیہ السلام کی ذات اور ذکر کے بعد تقریباً جو چیز سب سے زیادہ سکون کا باعث بنتی ہے، اسے ماں کا نام دیا جاتا ہے۔
اگر اس کا اندازہ کرنا چاہیں تو جب کبھی دل بہت اداس ہو اپنی والدہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جائے۔ جب ماں اپنے پیار بھرے ہاتھوں سے سر کو سہلاۓ گی تو یوں محسوس ہوگا کہ ایک بہت بھاری بوجھ تھا جو اس عظیم ہستی کے قدموں پر سر رکھنے کی برکت سے دور ہو گیا ہے۔

ماں کی کمزوری

باپ کی بہ نسبت، ماں کو کمزور بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات اس عظمت سے بے خبر اولاد فقط کمزوری پر نگاہ رکھتے ہوئے اس سے اس قسم کا سلوک کرتی نظر آتی ہے جو کسی بھی لحاظ سے شریعت کو پسند نہیں۔

محبت کا چٹان

ماں کے وجود سے جتنا بھی پیار کرو کم ہے ماں کی محبت چٹان سے زیادہ مظبوط اور پھول سے زیادہ خوبصورت ہے۔ جس نے ماں کے وجود کو دنیا میں اہمیت نہ دی وہ کبھی دنیا میں عزت نہیں پاسکتا، گلاب جیسے خوشبو، چودھویں جیسی چاندنی، فرشتوں جیسی معصومیت، سچائی کا پیکر لا زوال محبت یہ تمام عرف یکجان ہو جائیں تو ایک مقدس لفظ بن جاتا ہے۔ ماں

ماں کا رشتہ

کوئی بھی رشتہ بدن پر پہنے کپڑے کی مانند ہوتا ہے اسے بدن سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے مگر ایک ایسا رشتہ ہے جس کے بغیر کوئی بھی مکمل طور پر خوشی حاصل نہیں کر پاتا۔ جان سے وابستہ رشتے کبھی بہت پیارے ہو جاتے ہیں۔ کبھی دل سے اتر جاتے ہیں مگر ایک رشتہ ایسا ہے جو کبھی بھی اپنی ہمت نہیں کھو پاتا یہ عظیم رشتہ صرف اور صرف ماں کا ہے۔

ماں کا دوسرا نام

ماں کا دوسرا نام محبت ہے وہ محبت جو ماں اپنے بچوں پر نچھاور کرتی ہے۔ ماں پھول کی طرح پیار کرتی ہے ماں کا پیار دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے ماں اللّٰہ کا بہترین تحفہ ہے، ماں اپنی اولاد کا سارا دکھ سینے میں اتار لیتی ہے اور انہیں خوشیاں دیتی ہے ماں کا ہر روپ خوب دل کش اور حسین ہوتا ہے ماں کے چہرے پر ہر وقت محبت رہتی ہے ماں کسی سے نفرت نہیں کرتی، ماں کی محبت ہر وقت ساتھ رہتی ہے ماں کسی سے نفرت نہیں کرتی ماں کی محبت سمندر کی طرح وسیع ہوتی ہے ماں کے قدموں تلے جنت ہے، جس طرح باغ میں گلاب کا پھول نہ ہو تو باغ خوبصورت نہیں لگتا اسی طرح جس گھر میں ماں نہ ہو وہ گھر گھر نہیں لگتا۔

جذبے تمام پیار کے

دنیا میں ہوش سنبھالتے ہی جس ہستی کو اپنی طرف متوجہ پایا وہ ماں تھی۔ ماں کا نام لیں تو ایسے لگتا ہے کہ چاروں طرف خوشبوؤں نے بسیرا کر لیا ہے، ماں دنیا کا خوبصورت اور حسین ترین تحفہ بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے والی ماں جنت کی نشانی۔ ماں کا نام لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک مضبوط دیوار ہمارے چاروں طرف چن دی گئی ہو اور ہمیں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ ماں ہی تو ہے جو اپنی اولاد کا دکھ درد سمجھتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے یہ اس کی اولاد کا نہیں اس کا اپنا دکھ اپنی تکلیف ہو۔
اگر یہ دنیا آنکھ ہے تو ماں بینائی ہے۔ اگر یہ دنیا پھول ہے تو ماں اس کی خوشبو ہے۔ ماں کی دعاؤں نے آپ کو چاروں اطراف سے احاطے میں لے رکھا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو کہ جس کے دل میں ماں کی عظمت کا احساس نہ ہو۔ ایسے لوگ ہیں تو یقیناً وہ بدقسمت اور بدبخت ہیں۔ باپ کا غصہ اور ماں کا پیار مشہور ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *