تعویذ دفنانا

بعض خاص قسم کے مقاصد کے لئے جادوگر تعویذ لکھ کر اسے زمین میں، قبر میں، مطلوبہ شخص کے گھر میں یا اس کے راستے میں دفنا دیتا ہے۔ ایسے تعویذ ہلاکت، جدائی اور محبت کے لئے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔

تعویذ بہانا

بعض دفعہ عامل تعویذ کو پانی میں بہا کر مختلف قسم کے مقاصد حاصل کرتا ہے۔

سحری اشیاء کھلانا

بعض دفعہ ساحر کسی چیز پر پڑھائی کر کے دیتا ہے کہ مطلوبہ شخص کو یہ کھلا دیا جائے۔ محبت، بیماری،ہلاکت اور نفرت کے لئے ایسے عملیات بہت عام ہیں۔

تعویذ ھوا میں لٹکانا

بغض مقاصد کے لئے ساحر کوئی تعویذ لکھ کر سائل کو دیتا ہے کہ اسے اپنے گھر میں، ویرانے میں، قبرستان میں یا مطلوبہ شخص کے گھر کے پاس لٹکادو۔

جادو کا توڑ صرف شریعت کے دائرے میں

یاد رکھیں کہ جادو کفر ہے خواہ بری نیت سے کیا جائے یا اچھی نیت سے! اور ہم جب محض جادو کو کفر کہتے ہیں تو اس سے مراد وہ شرکیہ، کفریہ اور شرع اسلامی کے منافی اعمال ہیں جن سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی آدمی یہ سمجھے کہ میں لوگوں کو فائدہ دینے کے لئے جادو سیکھنا چاہتا ہوں تو اس کی سوچ ایسی ہی ہے جیسے کوئی یہ سوچے کہ میں چار پانچ ڈاکے ڈال کر اور چند امراء کو اغواء کرکے ان سے بھاری تاوان وصول کر کے ایک خوبصورت اور عالی شان مسجد تعمیر کروں گا۔
عاملین صرف اور صرف قرآن و سنت کے دائرے میں رہ کر لوگوں کا علاج کریں۔

جادو کے توڑنے کے لئے جادو کا سہارا

بعض لوگ کہتے ہیں کہ لوھے کو لوہا کاٹتا ہے۔ اور جادو کا توڑ جادو سے ہوتا ہے۔ یہ بات مشہور کرنے میں شاید جادو گروں کا اپنا ہی ہاتھ ہو۔ تاکہ جادو کرنے کے لئے بھی ہماری خدمت حاصل کی جائیں اور ختم کرنے کے لئے بھی ہماری ہی خدمات حاصل کی جائیں۔ ایک فریق جادو کروانے کے لئے ہماری خدمات حاصل کرے تو دوسرا فریق اس کا توڑ کرانے بھی ہمارے ہی در پر ماتھا ٹیکے۔
مگر یاد رکھیں کہ جس طرح جادو گر اپنے خلافِ شریعت کفریہ عمل کی وجہ سے مرتد ہو جاتا ہے، علمائے اسلام نے اس سے جادو کرانے والے کا بھی یہی حکم بیان فرمایا ہے کہ جو اسے جائز سمجھ کر عمل کروائے گا اس کا حکم بھی ساحر والا ہے۔ اور اس میں یہ تخصیص نہیں کہ عمل کسی کو نقصان پہنچانے، بس میں کرنے یا ہلاک کرنے کے لئے کروایا جا رہا ہے یا جادو کا توڑ کرانے کے لئے؟ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
جادو کا توڑ جادو سے کرنا شیطان کا عمل ہے۔

عملیات پر غرور نہ کریں

عامل کبھی اپنے عملیات اور ان کی افادیت و تاثیر پر غرور نہ کرے۔ اور یوں کبھی نہ کہے کہ میرے دم کرنے سے فلاں بندہ ٹھیک ہوگیا۔ میرے تعویذ سے فلاں کا کام ہوگیا۔
بلکہ ہر فائدے کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کرے کہ اللہ تعالٰی نے فلاں کو فائدہ دیا۔ اللہ تعالٰی کے حکم سے فلاں شفایاب ہوگیا وغیرہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *