سلطنت عثمانیہ کے بانی، باعمل، بہادر، ذہین اور سادگی پسند حکمران

عثمان خان کی شخصیت اس قدر سحر انگیز تھی کہ اس کا تاثر تقریباً سات صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی روز اول کی طرح بھرپور ہے۔ سلطنت عثمانیہ کی داغ بیل ڈالنے اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں عثمان خان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو دشمنان اسلام کے مظالم سے نجات دلانے کے لئے پرچم جہاد بلند کیا، اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا اور کئی محاذوں پر اسے شکست کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا۔ کفار کے خلاف جہاد کرنے کی وجہ سے آپ کو عثمان غازی بھی کہا جاتا ہے۔
عثمان خان کا تعلق ترکوں کے قبیلے اوغوز سے ہے۔ اس قبیلے کے مورث اعلیٰ اوغوز خان تھے۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ترکان غز کہلاتے تھے۔
عثمان خان نے مروجہ تعلیم پائی اور جنگی فنون پر دسترس حاصل کی۔ جلد ہی وہ مختلف جنگوں میں اپنے والد کی نیابت کرنے لگے۔ اس کی شہر سے ملے ہوئے علاقے ایترونی میں ایک بڑے عالم رہتے تھے جن کا نام شیخ ادہ بالی تھا۔ شیخ نے اپنی بیٹی مال خاتون کی شادی عثمان خان سے کردی۔ مال خاتون نہ صرف ظاہری خوبصورتی سے مالامال تھی بلکہ علم و عمل اور سیرت کے اعتبار سے بھی بلندیوں پر فائز تھیں۔ انہی خاتون کی بطن سے عثمان خان کے بیٹے اور خان اور علاؤالدین پیدا ہوئے۔ عثمان کے انتقال کے بعد اور خان ہی نے عثمانی مملکت کی باگ ڈور سنبھالی۔

قراجہ حصار

ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے زیر انتظام تمام علاقہ عثمان خان کے سپرد کردیا گیا۔ عثمان خان نے انتظام اپنے ہاتھ میں لیتے ہی بازنطینی علاقوں کی جانب توجہ دی۔
اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ تھی کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بازنطینی حکومت آپس کی فرقہ وارانہ جنگوں اور بد نظمی کا شکار تھی، تاہم عثمان خان نے رومی سلطنت پرخود بڑھ کر حملے نہیں کیے بلکہ چھیڑ چھاڑ پہلے خود رومیوں نے شروع کی۔ عثمان خان کے اقتدار سنبھالنے کے صرف ایک سال بعد یعنی 688 ہجری / 1289 عیسوی میں قراجہ حصار کے قلعہ والوں نے حملہ کیا۔ عثمان خان نے اس قلعے کو فتح کر لیا۔ علاؤالدین نے یہ قلعہ بھی عثمان خان کی تحویل میں دے دیا، اپنے نام کا سکہ ڈھالنے کی اجازت دی اور ان کا نام خطبے میں شامل کر دیا۔

عثمان خان کے کارنامے

690 ہجری / 1291 عیسوی سے 697 ہجری / 1298 عیسوی تک کا عرصہ عثمان خان نے اپنی قلمرو کے نظم و نسق کو سنوار میں صرف کیا۔ 697 ہجری میں رومیوں نے پھر حملہ کیا لیکن عثمان خان نے انہیں مار بھگایا۔ 698 ہجری / 1298 عیسوی میں حصار بیلہ جک کے سردار نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں عثمان خان کو مدعو کیا۔ سردار کا ارادہ یہ تھا کہ اس تقریب میں عثمان خان کو بے بس کر کے انہیں قیدی بنا لیا جائے، لیکن عثمان خان کو اس سازش کی اطلاع مل گئی تھی۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کے ہمراہ تقریب میں پہنچے جن کے لباس میں اسلحہ چھپا ہوا تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ تقریب کے دوران میں ان پر قابو پاکر انہیں قید کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور بڑی چا بکدستی کے ساتھ قلعے پر قبضہ کرلیا۔
اپنے ابتدائی دور میں عثمان نے اطراف کے عیسائی قبائل اور حکام کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ خرمنجک کے عیسائی حاکم کوسہ میخائل مسلمان ہوگئے اور انہوں نے رومیوں کے خلاف زبردست جہاد کیا۔ اسی دور میں شمال کی سمت اینہ گول، یار حصار اور کو پری حصاری کے قلعے بھی فتح کیے گئے۔ پہلے ان مقامات پر ان امرأ کا قبضہ تھا جو رومیوں کو با قاعدگی سے خراج ادا کیا کرتے تھے۔ یہ علاقے پہاڑیوں اور وادیوں پر مشتمل ہیں۔ کوپری حصاری کی فتح بہت اہم ثابت ہوئی کیونکہ بعد میں جو علاقے فتح ہوئے ان کے لئے فوجی کاروائیوں کا مرکز کوپری حصاری کا قلعہ تھا۔
عثمان خان نے جب اطراف کے حکمرانوں کو اسلام کی دعوت پہنچائی تو لفکہ اور قادرلی کے شہزادیوں نے جزیہ دینا قبول کرلیا، لیکن جن حکمرانوں نے اسلام کی دعوت کا مذاق اڑایا، عثمان خان نے ان حکمرانوں کے علاقوں کو بھر پور کرکے فتح کر لیا۔ ان میں مارطونی، گوئیک، طرقلی، قراقین، طقرنیاری وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔
700 ہجری / 1300 عیسوی میں جب سلجوقی حکمراں علاؤالدین ثانی، منگولوں کے حملے میں جاں بحق ہو گئے تو عثمان خان نے ینی شہر پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارالحکومت بنالیا۔ اسی عرصے میں عثمان خان نے ایک قریبی ریاست
قرۃ مان کو جنگ کرکے فتح کر لیا۔ رومیوں نے نے خطرہ بھانپ کر 701 ہجری / 1301 عیسوی میں ایک بڑی فوج حملے کے لئے بھیجی۔ عثمان خان کی فوج قیون حصار کے مقام پر بڑی بہادری سے لڑی۔ دشمن بھاگ کھڑا ہوا۔ چھ سال کے مختصر عرصے میں عثمان خان کی مملکت کی حدود بحر اسود کے ساحل کو چھو رہی تھیں۔
اسکے بعد عثمان خان نے برسہ کی طرف توجہ دی، جو ماضی میں بروصہ کہلاتا تھا۔ یہ شہر موجود مشرقی ترکی میں بحیرہ مرمرہ کے قریب کول الوداق کے دامن میں واقع ہے اور ترکی کا ایک بڑا شہر ہے۔ ماضی میں بھی یہ بڑا اہم شہر تھا جسے بعد میں عثمانیوں نے خوب ترقی دی۔ اس شہر کی حفاظت کے لئے رومی فوج نے جان توڑ کوشش کی۔ شہر والے قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ قیصر روم نے منگول حکمراں غازان خان کو ساتھ ملانے کی بڑی تگ و دو کی۔ اپنی بہن میر یاکی شادی غازان خان سے کرنے کا اعلان کیا، لیکن یہ تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں، بہر حال یہ ضرور ہے کہ برسہ والوں نے 717 ہجری / 1317 عیسوی سے 726 ہجری/ 1326 عیسوی تک یعنی تقریباً دس سال کے طویل عرصے تک عثمانی فوج کے محاصرے کے خلاف مزاحمت کی لیکن عثمانی فوج کی مستقل مزاجی کے آگے وہ اس سے زیادہ نہ ٹھہر سکے، ان کے پاس سامان خورد و نوش ختم ہوگیا اور فاقوں تک نوبت آگئی۔
برسہ کے خلاف جہاد کا آغاز عثمان خان نے کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ اپنی اسلامی مملکت کو تیزی سے وسعت دیتے ہوئے قسطنطنیہ تک پہنچنا چاہتے تھے، یہ خواب ان کی زندگی میں تو پورا نہ ہو سکا البتہ دولت عثمانیہ کے ساتویں حکمران سلطان محمد فاتح نے اس خواب کو پورا کر دکھایا۔ برسہ کا محاصرہ طویل پکڑ گیا تھا۔ دس سال کی مدت کم نہیں ہوتی۔ اس دوران عثمان خان علیل ہو گئے۔ وہ سعد چلے گئے اور برسہ کی فتح کی خوشخبری کا بےتابی سے انتظار کرنے لگے۔

عثمان خان کی وفات

آخر 726 ھجری / 1326 عیسوی میں وہ تاریخی دن آگیا جب عثمان خان کے صاحب زادے اورخان برسہ کی فتح کی خوشخبری لیے ہوئے اپنے والد کے پاس حاضر ہوئے اس نے خوشی سے لرزتی آواز سے کہا ابا جان اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے بروصہ فتح کر لیا ہے۔
بستر پر دراز شخصیت کے چہرے پر بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے ہونٹوں پر کلمہ شکر خداوندی جاری ہو گیا۔
پھر انہوں نے آنے والے کو مخاطب کیا،
بیٹے میں اس دنیا سے جا رہا ہوں، لیکن مجھے اطمینان ہے کہ میرا لائق بیٹا میرا جانشین ہوگا۔ میری باتیں غور سے سنو۔ ظلم کبھی اختیار نہ کرنا۔ رعایا سے عدل و انصاف کے ساتھ پیش آنا تاکہ رعایا خوشحال ہو اور ملک آباد رہے۔ فتوحات کا دامن پھیلانا تاکہ اللہ کا دین عام ہو۔ علماء، فضلا اور حکماء کو ہمیشہ اپنے قریب رکھنا، ان کے مشوروں پر عمل کرنا اور شریعت کی پیروی کرنا، رعایا اور امرأ میں اچھے اخلاق اور اچھی سیرت پیدا کرنے کی جدو جہد کو ہر بات پر مقدم رکھو گے تو انسانیت پھیلے گی۔ میری زندگی کا ایک مقصد تھا، دین پھیلے اور اخلاق حسنہ کا سکہ رواں ہو، تم بھی اس بات کو اپنا مقصد بنالو۔ جو حکمراں رعایا کو عدل و انصاف نہیں دے سکتا وہ حکمراں بننے کا اہل نہیں۔
اس کے چند دنوں بعد 21 رمضان المبارک 726 ھجری / 21 اگست 1326 عیسوی کو عثمان خان سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں برسہ لے جا کر دفن کیا گیا۔ برسہ میں ان کا مزار آج بھی موجود ہے۔
برسہ کو دارالحکومت بنانے کی جو ہدایت عثمان خان نے اپنے بیٹے کو دی تھی وہ نہایت دانشمندانہ تھی۔ اس طرح عثمانیوں نے اس شہر میں اپنے قدم مضبوطی سے جمائے اور قسطنطنیہ کی فتح کی راہیں ہموار ہو گئیں۔
عثمان خان نے 68 برس کی عمر پائی اور 38 سال حکومت کی۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے عثمانی مملکت کو جنوب میں قوطیہ اور شمال میں بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود تک وسیع کر دیا۔ ان کی قلمرو کا طول ایک سو بیس میل اور عرض ساٹھ میل تھا۔ گو کہ یہ مملکت بہت مختصر محسوس ہوتی ہے لیکن یہی ننھا سا پودا صرف دو سال میں بڑھ کر ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ عثمانی سلطنت کے اس گھنے درخت کی شاخیں، دسویں عثمانی فرماں روا سلیمان اعظم قانونی ( سلیمان اول ) کے دور میں پھیل کر ایک طرف بحیرہ ہنگری اور دوسری جانب بصرہ، تیسری طرف بحیرہ کیسپیئن (بحیرہ حزر) اور چوتھی جانب بحیرہ روم کے مغربی حصے تک پھیلی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارطغرل کون تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *