Dilchasp o Ajeeb Malomat in Urdu

Dilchasp o Ajeeb Malomat in Urdu

دلچسپ معلومات

شاید ہی کوئی آدمی پسند کرے کہ اسے زندہ دفن کر دیا جائے۔ لیکن امریکہ کے ایک شخص البرٹ کو اس میں کوئی اعتراض نہ تھا۔ ایک بار وہ ایک تابوت میں پینتالیس دن تک زمین میں دفن رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے پڑھنے کیلئے فرصت درکار تھی۔

سعودی عرب میں محمد المسعود نام ایک بارہ سالہ نابینا بچے نے صرف ساٹھ دن میں پورا قرآن پاک حفظ کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

افریقہ میں ایک شہر ٹیم زاہ ہے جس میں تمام مکانات نمک سے بنے ہوئے ہیں۔

ترکی کی ایک مسجد میں ایک مینار ہے جس کی چوٹی سے 24 گھنٹے پانی کے قطرے گرتے رہتے ہیں۔ وہاں کے بہت سے لوگ اس مینار کا پانی اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ 500 سال گزرنے کے باوجود پانی کے قطرے بدستور گرتے رہتے ہیں۔

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں ایک درخت پایا جاتا ہے جو کہ وہ دوپہر کو جب سورج کی شعاعیں زمین پر بالکل سیدھی پڑتی ہیں تو اپنے اندر پانی کے بخارات جمع کر لیتا ہے۔ کچھ دیر بعد یہ پانی جمع ہو کر بارش کی شکل میں برسنے لگتا ہے اس لئے یہ بارش والا درخت کہلاتا ہے۔

جرمنی کے ایک قصبے میں ہیملیفور نام کی ایک جھیل ہے۔ جس کے پانی میں دو ذائقے ہیں جھیل کی سطح کا پانی بہت میٹھا ہے لیکن سطح تقریباً تین فٹ نیچے کا پانی کھارا ہے، لوگ حیرت کرتے ہیں کہ ایک ہی جھیل کے پانی کے دو مختلف حصے کیسے ہیں۔ سائنس دان جھیل کے دونوں پانیوں پر تجربہ کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ جلد کوئی حل نکل آئے گا۔

اٹھارہ سو چالیس عیسوی میں ایک فرانسیسی اخبار ربڑ چھپتا تھا مقصد یہ تھا کہ اسے غسل کرتے وقت نہانے کے ٹب میں بھی بیٹھ کر پڑھا جاسکے۔ یہ اخبار پیرس سے کئی سال تک چھپتا رہا۔

ہوائی جزیرے کائے پر ایسی ریت پائی جاتی ہے جس پر چلنے سے ریت پر اندر سے کتے کے بھونکنے کی آواز آتی ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ سیل ایک ایسی مچھلی ہے جو پانی میں تیرتی ہے اور خشکی میں دوڑتی ہے۔

وسطی افریقہ کے بالطی نامی گاؤں میں ایک ایسا درخت پایا جاتا ہے جو گھوم سکتا ہے۔ تندو تیز طوفانی بارش میں جب دوسرے درختوں کی جڑیں اکھڑ جاتی ہیں تو اس درخت کی جڑیں چاروں طرف گھومتی ہیں۔ اس طرح وہ ہوا کے زور کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ مقامی لوگ اس درخت کو مقدس قرار دیتے ہیں۔

نیوی لینڈ کے شہر کوئنز ٹاؤن میں ایک جھیل کے کنارے ایک بہت انوکھا مکان بنایا گیا ہے، اس کی دیوار کا نچلا حصہ نو ہزار اناسی بوتلوں سے بنایا گیا ہے۔ بوتلوں کو سیمنٹ سے اس طرح جوڑا گیا ہے کہ ان کے سرے باہر کی طرف نظر آتے ہیں۔ طاقچوں، دریچوں اور الماریوں اور کھڑکیوں میں رنگ برنگی بوتلیں استعمال کی گئی ہیں۔ رات کے وقت یہ مکان بڑا دلفریب نظر آتا ہے۔ اسے تقریباً دو ہزار افراد روزانہ دیکھنے آتے ہیں اور ٹکٹ خرید کر اس کی سیر کرتے ہیں۔

افعانستان میں ایک ایسا کنواں ہے جس میں کوئی چیز یا پتھر پھینکا جائے تو فوراً باہر آجاتا ہے۔ بغض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کنویں میں سے گیس نکلتی ہے جس کے زور سے پتھر یا کوئی بھی چیز فوراً باہر نکل آتی ہے۔

انیس سو چالیس عیسوی میں بیونس آٹرس میں مالی پریشانیوں سے تنگ آکر ارجنٹائن کے 32 سالہ ایک شخص نے اپنی ایک آنکھ ساڑھے تین لاکھ ڈالر میں بیچنے کا اعلان کیا۔ اس نوجوان نے بتایا کہ بعض لوگوں نے اس آنکھ کو خریدنے کے لئے پیش کش بھی کی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مشہور ظالم حملہ آور فاتح چنگیز خان کی موت کو چھپانے کے لئے اس کے جنازے کو دیکھنے والے ہر شخص کو قتل کردیا جاتا تھا۔

جنوبی امریکہ میں دریائے ہران کے ساحل پر برازیل کے نزدیک دنیا کا خوفناک ترین مقام ہے۔ جب سے دنیا ظہور میں آئی ہے وہاں مسلسل بارش ہوتی رہتی ہے۔ گوائر آبشاروں سے جو پانی کے چھینٹے اڑتے ہیں ان کو ہوا اپنے دوش پر سوار کر کے ساحل پر لے آتی ہے۔ یہاں پر بخارات کثیف ہو کر برس پڑتے ہیں۔ اس لئے یہاں مسلسل بارش ہوتی رہتی ہے۔

دیم جاپان کی ایک تہذیب یافتہ بستی میں لوگ اپنا کاروبار پتھر کے روپے پیسے کرتے تھے۔ یہ سکے مخصوص پتھر کے بنائے جاتے تھے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ تو بیل گاڑی اور اسکوٹر کے پہیوں کے برابر بھی بر آمد ہوئے ہیں۔

امریکہ کے بعض شہروں میں دن میں دس دفعہ اخبارات نکلتے ہیں۔

جنگ کے دوران میں فلپائن کا پرچم الٹا لٹکا دیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ فلپائن ان دنوں جنگ میں مصروف ہے۔

بلجیم غالباً دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ننگے پاؤں چلنا جرم ہے اور ننگے پاؤں چلنے والے کو سزا دی جاتی ہے۔

سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق ہر بن ( چین ) کے 26 سالہ گون یان لنگ کو 15 ہزار سے زائد ٹیلی فون نمبر زبانی یاد ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیاء کے ملک برونائی کے قانون کے تحت جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جامع مسجد میں نہ آنا جرم ہے۔

آپ یقیناً یہ سن کر حیران ہونگے کہ نائیجریا میں توارح نامی قبیلہ کے مرد نقاب پہنتے ہیں۔

ہمالیہ کے چینیوں کی کئی مشترکہ خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے سینوں پرvکا سفید نشان ہوتا ہے۔

کانگو کے پگھی ( بونے ) قبائل میں رواج ہے کہ عورت اپنے خاوند کے ماتھے پر نو کیلے بھالے سے اپنا نام گدواتی ہے، مقصد یہ ہے کہ اس پر کوئی دوسری عورت اپنا حق نہ جتا سکے۔

One thought on “Dilchasp o Ajeeb Malomat in Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *