نامحرموں کے سامنے آنا

حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں۔
بغض گھروں میں دیوروں اور جیٹھ سے اور ان کے جوان لڑکوں سے پردہ نہیں کیا جاتا، بعض عورتیں خالہ زاد اور ماموں زاد اور چچا زاد اور پھوپھی زاد بھائیوں سے پردہ نہیں کرتیں اس میں سخت فتنہ کا اندیشہ ہے اور اگر اندیشہ نہ بھی ہو تو یہ کیا کم فتنہ ہے کہ ہر روز نامحرموں کے سامنے آنے کا گناہ ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے، فقہاء نے یہاں تک احتیاط کی ہے کہ جوان بھتیجی کا حقیقی چچا سے بھی پردہ کرانے کا لکھا ہے کہ وہ اگر بری نظر سے نہ دیکھے گا تو ممکن ہے کہ اسی نظر سے دیکھے کہ یہ میرے لڑکے کے قابل ہے یا نہیں، اور اس نظر سے دیکھنے میں شہوت کی آمیزش کا خود اندیشہ ہے۔
اللّٰہ اکبر! یہ ہیں حکمائے امت، واقعی فقہاء نے زمانہ کی حالت کو خوب سمجھا ہے اور شیطان کے دھوکہ پر ان کی بہت نظر تھا۔،
رجاء اللقاء

چہرے کا پردہ

بعض لوگ چہرے کے پردہ کو حجاب سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں حالانکہ چہرے کا پردہ ستر سے مستثنیٰ ہے، حجاب سے نہیں۔ چہرہ ہی تو حسن کا اعلیٰ مرکز اور محل شہوت ہے۔
حجاب سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں تک ہے جس میں چہرہ بھی ہے البتہ عورت کے ستر میں چہرہ ہاتھ پاؤں پردہ سے مستثنٰی ہے جبکہ حجاب میں ان کو بھی چھپانے کا حکم ہے۔
پردے کی فضیلت کا بیان مردوں میں کرنا چاہئے یہ مرد ہی عورت کو بے پردہ بناتے ہیں۔

برائی کا وسیع مفہوم

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاتھ کا زنا نامحرم کو پکڑنا ہے۔ ( اور آنکھ کا زنا نامحرم کو دیکھنا اور زبان کا نامحرم سے بات کرنا ہے )۔
بحاری و مسلم

عورت کی حفاظت

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں۔
طبرانی، حاکم بیہقی

اختلاط کی نحوست

نامحرم مرد عورت کا تنہا جگہ بیٹھنا حرام ہے۔ اگر پردہ نہ ہو تو عادت اور مشاہدہ شاہد ہے کہ ہرگز اس میں احتیاط نہ کی جائے گی۔

مشابہت پر لعنت

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مردانی شکل بنانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
رواہ ابوداؤد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *