Black Tea and Coffee Side Effects in Urdu

Black Tea and Coffee Side Effects in Urdu

کافی اور چائے

کافی اور چائے کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے کافی دراصل ایک پودے کا بیج ہے، ان بیجوں کو بھون کر پیس لیتے ہیں اور یہ سفوف(پاوڈر) گرم پانی میں ڈال کر تھوڑا سا جوش دینے کے بعد استعمال کرتے ہیں۔
اکثر نامور طبیبوں نے چائے کی طرح کافی کو بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ ایک حد تک اس کی برائی کی ہے اور سچ یہ کہ ان کے دلائل میں معقولیت کے ساتھ وزن بھی پایا جاتا ہے۔
کافی میں ٹینک ایسڈ کی مانند ایک قابض جزو موجود ہے جو مقدار میں پانچ فیصد ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ایک لطیف و خوشبودار جزو بھی ہے، جو خشک کرنے اور بھوننے کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور ایک قلمی جوہر بھی، جس کا اصطلاحی نام قہوہ ہے یہ جو ہر کافی سے جدا کیا جا سکتا ہے اور اس کا تجربہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ایسا خطرناک زہر ہے جو انسان اور حیوان کو فی الفور ہلاک کر سکتا ہے۔ تجربات یہ بتاتے ہیں کہ چائے اور کافی کا جوشاندہ درحقیقت زہریلا ہوتا ہے۔

چائے ہمارے دیس میں

چائے دراصل ایک سبزی ہے، چین میں اس کا پودا 9 فٹ لمبا ہوتا ہے، آسام میں پودوں کی بجائے 20 سے 60 فٹ تک درخت پائے جاتے ہیں، کمبوڈیا میں اس کا 16 فٹ کا درخت موجود ہے، پاکستان میں خاص قسم کی چائے استعمال نہیں کی جاتی بلکہ متعدد اقسام کی چائے کو مختلف طریقوں سے تیار کرکے استعمال میں لایا جاتا ہے، لکڑی کا برادہ اور چنے کے چھلکے بھی رگڑ کر اس میں ملا دئیے جاتے ہیں جو سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کی تیاری میں بعض ایسے اجزا بھی شامل کر دیئے جاتے ہیں جو آنتوں اور معدہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
چائے کا سب سے پہلے استعمال چینیوں نے کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں اسے انگریزوں نے اپنے دور اقتدار میں رواج دیا، آسام اور مشرقی پاکستان کے علاقوں کے باغات ان کی ملکیت تھے اور وہ انہیں تجارتی بنیادوں پر فروغ دینا چاہتے تھے۔ 1715 عیسوی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کی تشہیر کے لئے بھر پور محنت کی یہاں تک 1839 عیسوی تک یہ بر صغیر سے بر آمد بھی کی جانے لگی۔
تاریخی حقیقت ہے کہ 1925 عیسوی تک متحدہ ہندوستان لوگ چائے کے عادی نہ تھے اور انہیں اس سے کوئی دل چسپی نہ تھی، مکھن کے ساتھ دودھ، لسی جیسے مقوی مشروبات استعمال کرتے تھے، اسی لئے صحت قابل رشک ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے چائے کے باغات لگانے سے زیادہ زور اس پر لگایا کہ ایک ٹی پروسس بورڈ قائم کیا جائے۔ چائے کو رواج دینے کے لئے ہندوستان کے صنعتی شہروں میں محنت کش آبادی کو چائے کا عادی بنانے کے لئے ایک منظم پروگرام پر عمل در آمد کیا گیا۔ ان آبادیوں میں انگریزوں کے مقرر کردہ کارندے چائے کے گشتی اسٹال لگاتے اور گلی گلی پھر کر دودھ، شکر ملا کر ہر ایک کو مفت چائے پیش کرتے۔ چنانچہ یہ اسکیم بہت کامیاب ہوئی۔
مزدور اور ان کے بچوں کے علاوہ دوسری آبادی ان پھیری والوں کا انتظار کرتی، خواتین کے لئے گھروں میں چائے کے پیکٹ پھینکے جاتے، اسی طرح چائے گھر گھر پہنچانے کے لئے ان دنوں ایک نیا نعرہ بھی ایجاد ہوا، جو کہ بڑا مشہور ہوا۔
گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔
مختلف منازل طے کرنے کے بعد آج سارے معاشرہ میں مشروبات سے بڑھ کر ایک غذائی حیثیت بھی حاصل کرلی ہے۔

چائے کے نقصانات

طبی ماہرین کے نزدیک اس کے ایک کپ میں چار حرارے (کلوریز) ہوتے ہیں اور ساتھ ہی بی کمپلیکس بھی، مگر اس میں نکوٹین ایسڈ کا زہر بھی ہوتا ہے جو انسان کے دل و دماغ کے علاوہ اس کی آنتوں کو خشک کرتا ہے اور ان میں سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ کیفین اس کا ایک زہریلا جزو ہے، یہ بھی انسانی آنتوں کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا یے، کیفین کا بیشتر حصہ چائے کے پودے کی کونپلوں میں ہوتا ہے، اس کی مقدار چار سے پانچ فیصد تک ہوتی ہے جو چائے کی پتلی ٹہنیوں اور شاخوں سے تیار کی جاتی ہے۔
معدہ اور ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔
آنتوں کو بیماریاں گھیر لیتی ہے۔
دل کی دھڑکن تیز ہو کر اختلاج کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
اس سے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔
معدہ سست ہو جاتا ہے، بھوک نہیں لگتی اور جو کچھ کھایا جاتا ہے وہ اچھی طرح ہضم بھی نہیں ہوتا۔
خون کو خراب کرتی ہے اور نیند کو کم کرکے بے خوابی کی شکایت پیدا کرتی ہے۔
اس سے دماغ اور آنکھوں کی بینائی پر اثر پڑتا ہے۔
زیادہ چائے پینے والے افراد میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔
زیادہ چائے کے استعمال سے بدن کی رگیں موٹی ہو کر ابھر آتی ہیں۔
چائے کے بکثرت استعمال سے گیس، بلڈ پریشر جیسے موذی امراض بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
خونی بواسیر کے مریضوں کے لئے ازحد نقصان دہ ہے۔
چائے جگر خراب کرتی ہے۔
سوزاک پیدا کرتی ہے۔
عورتوں میں لیکوریا کی شکایت ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *